تہران (6 مارچ 2026): ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے حملے اور ایران کی جوابی کارروائی کے بعد ثالثی کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔
ایرانی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کچھ ممالک نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں، واضح رہے کہ ہم خطے میں پائیدار امن کیلیے پُرعزم ہیں تاہم ہمیں اپنے ملک کے وقار اور خودمختاری کے دفاع میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔
ایران اسرائیل امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریں
مسعود پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ ثالثی کا رخ ان لوگوں کی طرف ہونا چاہیے جنہوں نے ایرانی عوام کو کم تر سمجھا اور اس تنازع کی آگ بھڑکائی۔
Some countries have begun mediation efforts. Let’s be clear: we are committed to lasting peace in the region yet we have no hesitation in defending our nation’s dignity & sovereignty. Mediation should address those who underestimated the Iranian people and ignited this conflict https://t.co/MxWCuNYOYR
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) March 6, 2026
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالے کیونکہ ایسا کرنے تک کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے ناقابلِ قبول
گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشین بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے لیے ناقابل قبول قرار دیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کی وفات کے بعد ملک کے اگلے رہنما کے انتخاب میں مجھے ذاتی طور پر شامل ہونا چاہیے۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ اگر ایران نے امریکی شمولیت کے بغیر کسی جانشین کا تقرر کرنے کی کوشش کی تو وہ اپنا وقت ضائع کرے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ قتل ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو وسیع پیمانے پر سب سے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن وہ اس نتیجے کو قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا بیٹا ایک ہلکا کھلاڑی ہے اس تقرری میں میرا شامل ہونا ضروری ہے، وہ کسی بھی ایسے نئے ایرانی رہنما کو مسترد کر دیں گے جو سابقہ قیادت کی پالیسیوں کو جاری رکھے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ ایسا کرنے سے پانچ سالوں میں امریکا کے ساتھ دوبارہ تنازع شروع ہونے کا خطرہ ہوگا، خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے ناقابلِ قبول ہے، ہم ایسا شخص چاہتے ہیں جو ایران میں ہم آہنگی اور امن لائے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


