The news is by your side.

Advertisement

ملّی نغمہ سوہنی دھرتی اللہ رکھے، قدم قدم آباد اور مسرور انور

جشنِ آزادی کے موقع پر وطنِ عزیز پاکستان کے طول و عرض میں وطن کی سلامتی و استحکام کے لیے اور آزادی کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دعا کی صورت یہ ملّی نغمہ گونج رہا ہے،’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے، قدم قدم آباد۔‘‘

پاکستانیوں کے دل کی آواز بننے والا یہ نغمہ ہر سماعت میں‌ محفوظ ہے اور آج آزادی کے جشن اور یادگار دن پر جھوم جھوم کر سنا اور گایا جارہا ہے۔

اس ملّی نغمے کے خالق پاکستان کے نام وَر شاعر مسرور انور ہیں جنھوں نے فلمی گیت بھی لکھے اور اپنے وطن پاکستان کے لیے بھی ایسے نغمات تخلیق کیے جن کی مقبولیت آج ہی نہیں آنے والے وقتوں میں بھی برقرار رہے گی۔

مسرور انور 1962ء سے 1990ء تک پاکستانی فلمی صنعت کے لیے گیت نگاری کرتے رہے اور ممتاز ترین نغمہ نگاروں میں شامل ہوئے۔ انھوں نے 1970ء کے اوائل میں جو ملّی نغمات لکھے انھیں بے حد مقبولیت ملی اور سوہنی دھرتی اللہ رکھے کے علاوہ سرفروشی اور وقت پڑنے پر جذبہ شہادت سے مغلوب ہوکر میدانِ جنگ میں اترنے والے قوم کے دلیر شیر جوانوں سے اس نغمے کے ذریعے مخاطب ہوئے اور کہا، اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں، قوم کے مردِ مجاہد تجھے کیا پیش کروں….!

مسرور انور کا یہ ملّی نغمہ وطن کی مٹی گواہ رہنا بھی سبھی کی سماعتوں میں تازہ ہے۔ انھوں نے وطن کی خوب صورتی اور آزادی پر نثار ہوتے ہوئے یہ نغمہ بھی قوم کے لیے پیش کیا جو آج پھر ہمارے لبوں پر رقصاں ہے، جگ جگ جیے میرا پیارا وطن، لب پہ دعا ہے دل میں لگن۔

سوہنی دھرتی اللہ رکھے وہ نغمہ تھا جو شہناز بیگم کی آواز میں پاکستان کی ثقافتی پہچان بن گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں