The news is by your side.

سکھوں کا بھارت سے علیحدگی کیلئے ایک اور ملک میں ریفرنڈم

ٹورنٹو: بھارتی صوبے پنجاب سے تعلق رکھنے والے دنیا بھر میں موجود سکھوں کی خالصتان کے نام سے ایک علیحدہ اور آزاد ریاست بنانے کی مہم اب کینیڈا پہنچ گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سکھ فار جسٹس موومنٹ کی سکھوں کیلئے علیحدہ ملک کے قیام کیلئے ریفرندم مہم برطانیہ، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی کے بعد کینیڈا پہنچ گئی ہے، جہاں تنظیم نے 18 ستمبر کو ووٹنگ کرانے کا اعلان کیا ہے۔ سکھ فار جسٹس کے زیرِ اہتمام ریفرنڈم کیلئے ووٹنگ ٹورنٹو کے نواحی علاقے برامپٹن میں ہوگی۔

ریفرنڈم سے قبل سکھوں کی نمائندہ تنظیم کی جانب سے آگاہی کیلئے کار ریلی بھی نکالی گئی، جس میں دو ہزار سے زائد گاڑیاں شامل تھی۔

ریفرنڈم کے حوالے سے ٹرک ریلی کا بھی اہتمام کیا گیا جبکہ میگا بِل بورڈز پر خالصتان ریفرنڈم کی تشہیر بھی جاری ہے۔

ریلی کی سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خالصتان کے جھنڈوں سے سجی گاڑیوں کی ایک لمبی قطار دکھائی دے رہی ہے اور ان پر علیحدہ تحریک اور آئندہ خالصتان ریفرنڈم کیلئے ووٹ کی حمایت میں بل بورڈ نصب تھے۔

ایس ایف جے کے جنرل کونسلر اور ترجمان گروپتونت سنگھ پنن نے کہا کہ کینیڈا کے سکھوں نے دکھایا ہے کہ وہ خالصتان کے قیام کے اپنے مطالبے میں کہاں کھڑے ہیں۔

خیال رہے کہ یاد رہے کہ بھارتی صوبے پنجاب کو سکھوں کی خالصتان کے نام سے ایک علیحدہ اور آزاد ریاست بنانے کی مہم کافی پرانی ہے اور اس تحریک سے وابستہ بیشتر رہنما امریکا، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک میں رہ کر اپنی مہم چلاتے رہتے ہیں۔

خالصتان پر ریفرنڈم کا آغاز گزشتہ برس 31 اکتوبر کو لندن سے ہوا تھا جس کے بعد سوئٹزرلینڈ اور اٹلی میں بھی ووٹنگ کرائی گئی۔ ریفرنڈم میں اب تک بیرون ممالک میں مقیم ساڑھے چار لاکھ سے زائد سکھ حصہ لے چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں