The news is by your side.

Advertisement

ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والا معذور رکشہ ڈرائیور! عز م و ہمت کی مثال

کراچی : پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سڑکوں پر یوں تو سینکڑوں رکشہ ڈرائیور مل جاتے ہیں لیکن ان میں سے ایک رضوان خان  بھی ہیں جو اپنی ذات میں انوکھی شخصیت کے مالک ہیں۔

رضوان خان ایسے خود دار انسان ہیں جنہوں نے اپنی معذوری کو کبھی اپنی مجبوری نہیں بننے دیا، سخت اور نامساعد حالات میں بھی محنت اور ہمت سے کام لیا۔

بہت سے لوگوں کو یہ دیکھ اور سن کر تعجب ہوتا ہے کہ وہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی رکشہ کیوں چلاتے ہیں۔ اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز کی نمائندہ بینش سویرا نے رضوان خان سے خصوصی گفتگو کی۔

پولیو کے باعث زندگی بھر کیلئے معذور ہونے والے رکشہ ڈرائیور رضوان خان کوئی عام شخص نہیں بلکہ ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والے ایک پڑھے لکھے شہری ہیں۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وہ ایک طرف تو اپنی زندگی سے کچھ مطمئن تو نظر آئے لیکن بات کرتے ہوئے  رضوان ارباب اختیار سے شکوہ کیے بغیر بھی نہ رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے بچپن سے یہ امید دلائی گئی تھی کہ پڑھ لکھ لو اچھی نوکری ہوگی اچھا مستقبل ہوگا، اب میں نے اپنی تعلیم مکمل تو کرلی لیکن نوکری آج تک نہ مل سکی۔

رضوان کا کہنا تھا کہ معذوری کوٹے پر کئی بار امتحانات بھی دیئے لیکن ناکامی پر حالات نے دلبرداشتہ کردیا کیونکہ وہاں بھی خانہ پری ہورہی تھی، ان لوگوں نے ان کو ستایا جو خود زندگی کے ستائے ہوئے ہیں۔

انہیں ایک کمپیوٹر سینٹر میں ملازمت ملی لیکن بد قسمتی سے وہ سینٹر کورونا وائرس کی وجہ سے بند ہوگیا لیکن رضوان نے ہمت نہ ہاری اور ایک فلاحی ادارے کی جانب سے دیا گیا ہاتھ سے چلانے والا رکشہ چلانا شروع کردیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں