اسلام آباد : جے یو آئی (ف) کے سینیٹر مولانا عبدالشکور کا کہنا ہے کہ 18 سال سے کم عمرشادی پر پابندی کے قانون کو تسلیم نہیں کرتے۔
تفصیلات کے مطابق جے یو آئی (ف) کے سینیٹر مولانا عبدالشکور نے سینیٹ اجلاس میں قانون سازی اور بلوچستان کی صورتحال پر حکومتی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے واضح کیا کہ شریعت کے خلاف کسی بھی قانون سازی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
مولانا عبدالشکور نے مشترکہ پارلیمنٹ میں ہونے والی حالیہ قانون سازی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا 18 سال سے کم عمر شادی پر پابندی کا قانون شریعت اور اللہ کے حکم کے منافی ہے، شریعت کے خلاف کسی بھی قانون سازی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان پارلیمنٹ کو پابند کرتا ہے کہ کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔
جے یو آئی (ف) کے سینیٹر نے مطالبہ کیا کہ اس متنازع قانون کو فوری طور پر اسلامی نظریاتی کونسل بھیجا جائے تاکہ اس کی شرعی حیثیت کا تعین ہو سکے۔
مولانا عبدالشکور نے کہا کہ "اسلام کے نام پر صرف جے یو آئی کے ارکان ہی کھڑے ہوتے ہیں، ہم اس منظور شدہ غیر شرعی بل کو ہرگز نہیں مانتے۔”
سینیٹر عبدالشکور نے بلوچستان کے سیاسی بحران پر بھی آواز اٹھائی اور کئی سوالات کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ سردار اختر مینگل کا استعفیٰ اب کیوں منظور کیا گیا؟ اس کے پسِ پردہ کیا کھچڑی پک رہی ہے، ایوان کو آگاہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے 75 فیصد لوگوں کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے، وہاں کی اصل صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


