The news is by your side.

Advertisement

آرمی ایکٹ میں ترمیم، مخالفت میں ووٹ دینے پر مشاورت کر رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے ہم مخالفت میں ووٹ دیں اس پر مشاورت کر رہےہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجلس شوریٰ کے اجلاس میں مدارس سے متعلق وزارت تعلیم کے حالیہ اقدامات پر غور کیا گیا اور جائزہ لینے کے بعد ان اقدامات کومسترد کیا گیا، دینی مدارس کی اصلاح یا اصلاحات کالفظ ایک توہین آمیزلفظ ہے، مدارس سےمتعلق معاشرےمیں منفی رحجان دینےکی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے پی میں مدارس کے طلبا کو اسکالرشپ کے اقدام کومسترد کرتے ہیں، کوئی بھی طالبعلم دینی تعلیم کیلئےسرکاری رقوم قبول نہیں کرے گا، امریکا اور مغربی دنیا اس بات میں کیوں دلچسپی لے رہی ہےکیوں کہ اس بات کے لئے اربو ں ڈالر مختص کئے جاتےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مدارس کے نصاب سے شدت پسندی جنم لیتی ہے جب کہ دنیا میں دہشت گردی کی وجہ آپ ہیں، دینی مدارس کا نصاب نہیں، انہوں‌ نے کہا کہ جے یو آئی (ف)نے نیب ترمیمی بل پر غور کیا ہے نیب احتساب نہیں انتقامی ادارہ ہے، آزادی مارچ کے حوالےسے ہم نے ہمیشہ سب کو دعوت دی، آزادی مارچ حوالے سے حکومت کیخلاف قومی سطح پر نفرت پیدا ہوئی، میں پھر کہتا ہوں کہ اسٹیبلششمنٹ اس کے پشت سے ہٹ جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ آج اہم ایشو ز پر ن لیگ کی قیادت سے رابطہ کیا، ن لیگ کو اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا چاہیےتھا، قبل اس کے وہ اپوزیشن کو اکٹھا کرتے یکطرفہ فیصلہ کردیا.

آرمی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی پی اور ن لیگ قواعد پر بحث کر رہے ہیں یہ متفقہ مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا، ہم مخالفت میں ووٹ دیں اس پر مشاورت کر رہےہیں۔

جنرل سلیمانی کے قتل پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اور اسلامی دنیامیں نئی جنگ چھیڑناچاہتاہے، ٹرمپ کو مواخذے کا سامنا ہے اور اسے آئندہ الیکشن میں جانا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن کیلئے ایک جواز پیدا کررہا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں