منگل, اپریل 21, 2026
اشتہار

جعفر تھانیسری جن کی انگریزی دانی کی وجہ سے پھانسیاں موقوف ہو گئیں

اشتہار

حیرت انگیز

جعفر تھانیسری ہندوستان میں انگریز راج کے مخالف اور تاجِ برطانیہ کے اُن ‘غداروں’ میں سے تھے جنھیں کالا پانی کی سزا ہوئی تھی۔ وہ بیس سال تک انڈمان جزائر میں قید رہے اور 1866ء میں رہائی پانے کے بعد قید کا احوال، اپنے تجربات اور مشاہدات کو قلم بند کیا اور کتابی شکل دی۔ اس کتاب اردو زبان کی ابتدائی خود نوشت سوانح عمریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

جعفر تھانیسری نے اپنی لگن سے انگریزی زبان سیکھ لی تھی اور قید کے دوران بطور عرضی نویس کام کرکے مالی فائدہ بھی اٹھایا۔ اسی زبان کی بدولت ان کی علمی استعداد بھی بڑھی اور معلومات میں اضافہ بھی ہوا، کیوں کہ وہ انگریزی زبان میں لکھی گئی کتابیں پڑھنے لگے تھے۔ اس اقتباس میں جعفر تھانیسری نے اسی بات کو بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

لارڈ میو کے قتل تک میں انگریزی زبان سے بخوبی واقف ہو چکا تھا، ۱۸۷۲ء میں ایک انگریزی خواں لام سروپ کی ترغیب سے میں نے انگریزی زبان سیکھنی شروع کر دی تھی اور ایک سال کی محنت ہی سے مجھے لکھنے، پڑھنے اور بولنے میں خوب مہارت ہو گئی تھی، فرصت کے لمحات میں لوگوں کو اردو، فارسی اور ناگری زبانیں سکھایا کرتا تھا، یہی وجہ تھی کہ ان سے کثرتِ اختلاط کے باعث میری انگریزی کی استعداد بہت بڑھ گئی، اس وقت وہاں (کالا پانی کی قید میں) کاتبوں کی قلت تھی، لہٰذا سرکاری ملازموں کو عرائض نویسی اور اپیل نویسی وغیرہ کی بھی ممانعت نہ تھی، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے بھی عرضی و اپیل نویسی کا شغل جاری رکھا اور جب انگریزی میں لکھنے کی استعداد پیدا ہو گئی تھی، تب سے انگریزی میں لکھنا شروع کر دیا تھا، اس سے علمی استعداد میں ترقی کے علاوہ ہزاروں روپے کا مادی فائدہ بھی ہوا؛ چنانچہ انگریزوں کی معلمی اور عرائض نویسی سے سو روپیہ ماہوار بخوبی کما لیتا تھا، کالا پانی میں میرے علاوہ اور کوئی مسلمان انگریزی خواں نہ تھا، اس لیے میں نے اس علم کی بدولت مسلمانوں کے بعض بڑے بڑے اہم مقدمات میں ان کی بہت مدد کی، بڑی بڑی آفتیں اور مصیبتیں دور کرائیں اور بہت نفع پہنچایا، جسے مدت مدید اور عرصۂ بعید تک فراموش نہ کیا جا سکے گا، میری انگریزی دانی کی وجہ سے جن کی پھانسی موقوف ہو گئی اور جان بچ گئی، وہ تو تا زیست اس احسان کو نہ بھولیں گے، یہ بات بھی تعجب انگیز ہے کہ جس دن میری رہائی کا حکم پہنچ کر مشہور ہوا، اسی دن سے سرکاری ملازموں کے لیے عرائض نویسی کی قطعی طور پر ممانعت ہوگئی اور اب تو یہ کیفیت ہو گئی تھی کہ اگر کوئی سرکاری ملازم بھول کر بھی عرضی لکھ دیتا تو اسے ملازمت سے فوراً برخاست کر دیا جاتا، معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالی کی دیگر نوازشات کی طرح یہ اجازت بھی خاص میرے ہی لیے تھی۔

انگریزی سیکھ کر میں نے بڑے بڑے کتب خانوں کی سیر کی، ہر علم و ہنر کی صدہا کتابوں کا مطالعہ کیا، دنیا کی کوئی زبان ایسی نہ ہوگی، جس کی صرف و نحو انگریزوں نے نہ لکھی ہو، کوئی ملک ایسا نہ ہوگا، جس کی تاریخ نہایت شرح و بسط کے ساتھ انگریزی میں نہ ہو، انگریزی زبان علوم و فنون کا سرچشمہ ہے، جو یہ زبان نہیں جانتا وہ حالات دنیا سے بخوبی واقف نہیں ہو سکتا، اس زبان کے سوا کمانے کے لیے آج کوئی آلۂ زر نہیں ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں