The news is by your side.

Advertisement

مولانا سمیع الحق قتل کیس میں اہم پیشرفت، ڈرائیور کے جھوٹ سامنے آگئے

لاہور: مولانا سمیع الحق قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آگئی، پنجاب فرانزک ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مقتول کے ڈرائیور نے دورانِ تفیش جھوٹ کا سہارا لیا جبکہ تین افراد نے سچ بولا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب فرانزک ایجنسی نے مولانا سمیع الحق قتل کیس سے متعلق7 افرادکا پولی گرافک اور ڈی این اےٹیسٹ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولی گرافک ٹیسٹ کے دوران مولانا سمیع الحق کے ڈرائیور احمد شاہ سے مختلف سوالات کیے گئے جن کے اُس نے جھوٹے جواب دیے۔ ڈرائیور سے قتل کی منصوبہ بندی سے متعلق بھی سوال کیا گیا تو احمد شاہ نے جھوٹ کا سہارا لیا۔

تحقیقات کے دوران ڈرائیور نے اپنے بیانات مستقل تبدیل کیے اور خود کو بے گناہ ثابت کرتا رہا جبکہ تفتیش کے دوران 2 افراد کے فنگر پرنٹس، مقتول کے کمرے سے ملنے والے ڈی این اے کے نمونوں سے میچ کر گئے جبکہ تحقیقات کے دوران 3 افراد نے سچ بولا۔

مزید پڑھیں: مولانا سمیع الحق کے قتل کی 90 فی صد تحقیقات مکمل ہو چکیں: شہریار آفریدی

یاد رہے کہ گزشتہ برس نومبر کی 2 تاریخ میں راولپنڈی میں مقیم جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا ، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مقتول کو چھریوں کے 12 پہ در پہ وار کر کے قتل کیا گیا۔

تحقیقاتی اداروں نے موبائل فون کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ مقتول کی قبر کشائی کر کے پوسٹ مارٹم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس پر اہل خانہ نے صاف انکار کردیا تھا۔

تحقیقاتی ٹیم نے مولانا سمیع الحق کے دو ملازمین کو بھی حراست میں لے کر اُن سے پوچھ گچھ کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا سمیع الحق کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا فیصلہ، لواحقین کا انکار

دوران تفتیش کیس میں گرفتار ملازمین نے انکشاف کیا تھا کہ مولانا سمیع الحق سے جان پہچان والے دو افراد ملنے آئے تھے، اکیلے میں بات کرنے کے لیے ان سے وقت مانگا جس کے بعد مولانا نے ملازمین کو گھر سے باہر بھیج دیا تھا۔

ملازمین جب گھر واپس پہنچے تو انہوں نے مولانا سمیع الحق کو خون میں لت پت پڑے ہوئے دیکھا جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا، ڈاکٹرز کے مطابق مولانا اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں