بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کی علمی کاوشیں -
The news is by your side.

Advertisement

بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کی علمی کاوشیں

آج بابائے اردو کی 57 ویں برسی ہے

بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کا مقام پاک و ہند میں اُردو سے بے پناہ محبت کرنے والے اور اُردو تحریک کو بامِ عروج تک پہنچانے والوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہے، اس کے علاوہ دنیا میں کسی بھی زبان میں اس زبان سے اس قدر محبت کرنے اور اس کے فروغ کے لئے آخری سانسوں تک جدوجہد کرنے والی اگر کوئی شخصیت ہے تو یہ منفرد اعزاز بھی بابائے اُردو مولوی عبدالحق ؒ کو حاصل ہے .

بابائے اُردومولوی عبدالحقؒ کو ابتدا ءہی میں ریاضی سے گہرا لگاؤ تھا جس نے اُنہیں غور و فکر اور مشاہدے کا عادی بنا دیا ۔اس کے علاوہ انہیں فارسی اور اُردو شاعری، نثرنگاری ،تاریخ ،فلسفہ اور مذہب کا مطالعہ کرنے کا بھی شوق تھا ان علوم اور ادب کے مطالعے نے مولوی عبدالحقؒ کے قلب و ذہن پر مثبت اثرات مرتب کئے انہیں اپنے اطراف سے گہری دلچسپی پیدا ہوئی ۔غور و فکر ،مطالعے اور مشاہدے کا ذوق مزید گہرا ہوا ان کی فکر میں وسعت ،تخیل میں بلندی اور زبان و بیان کی باریکیاں واضح ہوئیں ۔بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کے بے شمار کارنامے ہیں طلبِ آگہی نے انہیں مزید متحرک اور مضطرب بنا دیا تھا۔ پہلی بار مولوی عبدالحقؒ کی کا وشوں سے دکنی زبان کے علمی اور ادبی شہ پارے سامنے آئے انہوں نے اپنی تحقیقی کاوشوں سے اس گوشہ ادب کی علمی اور لسانی اہمیت کو اُجاگر کیا۔

قدیم دہلی کالج کے حوالے سے بھی بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحقؒ نے اپنی انتھک محنت اور خلوص سے ”مرحوم دہلی کالج“ لکھ کر اس ادارے کی ادبی اور تعلیمی کاوشوں کو نمایاں کیا۔فورٹ ولیم کالج کی طرز سے ذرا ہٹ کر دوبارہ دہلی کالج قائم کیا جس سے بلاشبہ اُردو میں بیشتر مغربی ادب اور علوم سے آگہی کا موقع میسر آیا ۔دہلی کالج نے اس دور کے طلبہ کی شخصیت اور ذہن سازی میں نمایاں کردار ادا کیا ۔بابائے اُردو مولوی عبدالحقؒ نے نہ صرف اُردو میں تنقید نگاری، مقدمہ نگاری اور معنویت عطا کی بلکہ اُردو میں پہلی بار حقیقی تبصرہ، جائزہ اور لسانی اکتساب صرف بابائے اُردو مولوی عبدالحقؒ کی مقدمہ نگاری میں میسر آیا انہوں نے اُردو میں تبصرہ نگاری کو ایک نیا رنگ اور ڈھنگ عطا کیا۔

مولوی عبدالحق ؒ کی فکری، علمی، ادبی ، لسانی اور تعلیمی جدوجہد کے بارے میں جیسا کہ سب جانتے ہیں وہ سراپا اُردو اور اُردو ادب کی ایک نادر اور منفرد شخصیت تھے۔غالب کے خطوط کی ادب میں اپنی ایک اہمیت ہے ۔اس روایت کو آگے بڑھانے میں بابائے اُردو مولوی عبدالحقؒ نے زبان و بیان کا ایک نمونہ پیش کیا اور ان کے خطوط بھی اُردو ادب کا اہم اثاثہ بن گئے اس میدان میں بھی بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ نے اپنا الگ مقام بنایا ۔بابائے اُردو کی پوری زندگی اُردو کے فروغ کی جدوجہد میں گزری ،انجمن ترقی اُردو دارالترجمہ اور جامعہ عثمانیہ پر بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحقؒ کا بڑا قرض ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ نے کراچی میں رہائش اختیار کی اور یہاں انجمن ترقی اُردو کے دفتر کے قیام کے ساتھ ہی اُردو کے نفاذ اور اُردو یونیورسٹی کے قیام کی جدوجہد بھی شروع کردی ۔بابائے اُردو مولوی عبدالحق ؒ پاکستان کی تشکیل اور یکجہتی کو اُردو سے وابستہ دیکھتے تھے ۔بابائے اُردومولوی عبدالحق کی تحریک ایک بامقصد تحریک تھی خاص طور پر پاکستان میں اُردو کی اہمیت اور ضرورت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ایک سو سال قبل بابائے اُردو ڈاکٹرمولوی عبدالحقؒ نے جو نظریہ قائم کیا تھا وہ آج بھی سچ ثابت ہورہا ہے۔ اُردو ہمارے ملک کی یکجہتی کے لئے ضروری ہے ۔

زمانہ قدیم میں بھی بیشتر معاشرے ایک سے زیادہ زبانیں استعمال کرتے تھے ۔انگریزی آج ایک عالمی زبان ہے اور ہمیں عالمی رابطوں کے لئے انگریزی جاننا ضروری ہے مگر اُردو کو انگریزی کی اہمیت کے ساتھ پلڑے میں تولا جائے تو اُردو کا پلڑا انگریزی سے بہت بھاری ثابت ہوگا۔

اُردو ہماری قومی یکجہتی کی ضمانت ،قومی ترجمان ، سماجی ، معاشی ،تہذیبی اور مذہبی حلقوں کی بھی ترجمانی کرتی ہے ۔ہمارے ملک میں ہر قومی گوشے میں اُردو کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ اُردو مقامی زبانوں اور بولیوں کی سب سے بڑی معاون ہے وہ ان کی بھی ترجمانی کرتی ہے ۔ان تمام کاوشوں اور ملک میں اُردو کالج سےوفاقی جامعہ اُردو کے قیام اور انجمن ترقی اُردو کی شاندار ترقی کا سہرا بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کے سر جاتا ہے ان کی اُردو کے لئے خدمات ،کاوشوں اور مصائب کو برداشت کرنے کی تاریخ بہت طویل ہے ۔

آج بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کی57 ویں برسی ہے ۔ بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کا لگایا گیا پودا” اُردو کالج“ ان کی وفات کے بعدمحترم جمیل الدین عالی مرحوم و دیگر کی شب و روز مخلصانہ انتھک عملی کاوشوں کی بدولت اُردو یونیورسٹی کے تناور درخت کا روپ دھار چکا ہے۔ اس کے علاوہ ”اُردو باغ“ کی عمارت بھی تعمیر ہوچکی ہے ۔علم کی ان درسگاہوں سے علم کے پیاسے اپنی پیاس بجھا کر ملک و قوم کے مستقبل کو روشن بنانے میں مخلصی سے شب وروز مصروفِ عمل ہیں۔

اللہ تعالی ہمارے حکمرانوں کو بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ؒ کی جدوجہد سے سبق حاصل کر کے عمل کرنے اور قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے فرمان کے مطابق پاکستان بھر میں اُردو کو قومی و سرکاری سطح پر رائج کرکے” قومی یکجہتی “کو مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین اور بابائے اُردوڈاکٹر مولوی عبدالحقؒ کے درجات بلند فرمائے، آمین۔


تحریر: عمران نور

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں