The news is by your side.

Advertisement

وہ قتل جن کی وجہ غلط بیانی اور ہاتھ نہ ملانا تھا!

پوست اور گانجے کے کھیتوں میں کام کرنے کے دوران میکسیکو کے خواکین گوزمین نامی نوجوان کو منشیات کا کاروبار کرنے کی سوجھی اور پھر جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بننے کے لیے اس نے ہر حد پار کرلی۔

میکسیکو آج بھی منشیات اور اس کی اسمگلنگ کے لیے بدنام ہے۔ اس زمین پر منشیات کا کاروبار شروع کرنے کے بعد اپنی دولت، اسلحے کے بے دریغ استعمال اور جرائم پیشہ افراد کی مدد سے خود کو “ڈرگ لارڈ” ثابت کرنے کی دوڑ شروع ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ 2019 میں میکسیکو میں 34 ہزار سے زائد افراد قتل ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یومیہ 95 افراد اپنی جان سے گئے اور حکومت کچھ نہ کرسکی۔

ہاں، میکسیکو ایسا ہی ہے۔ وہاں منشیات فروش گروہ اور جرائم پیشہ افراد گویا راج کرتے ہیں۔

“ایل چاپو” وہ لقب ہے جو خواکین گوزمین کو اس تاریک دنیا میں سب سے “عظیم” اور “ممتاز” بناتا ہے۔

اس ڈرگ لارڈ کی گرفتاری کے بعد عدالت میں مقدمہ چلا تو اس کی سفاکی اور شقاوت کی داستانیں بھی سامنے آئیں۔ یہاں‌ ہم اختصار سے قتل کے دو ایسے واقعات بیان کر رہے ہیں‌ جن کی وجہ معمولی خطا اور غلطی تھی۔

ایل چاپو نے ایک معمولی جھوٹ، یا خود سے غلط بیانی پر اپنے ہی رشتے دار کو موت کی نیند سلا دیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران انکشاف ہوا کہ ایک مرتبہ جب ایل چاپو نے کسی کام سے اپنے کزن سے رابطہ کیا تو اس نے کہا کہ وہ شہر سے باہر جا رہا ہے، لیکن بعد میں وہ اندرونِ شہر ہی ایک پارک میں دیکھا گیا۔

جرائم کی دنیا کے اس “بے تاج بادشاہ” کو اپنے کزن کا یہ جھوٹ اس قدر گراں گزرا کہ اسے دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا۔ ایل چاپو نے معاملے کی تفتیش کرنے کے بعد جھوٹ ثابت ہونے پر اپنے کزن کے قتل کا حکم دے دیا۔ اُس کزن کے ساتھ اس کا سیکریٹری بھی موجود تھا اور اسے بھی مار دیا گیا۔

ڈرگ لارڈ نے اس قتل کے بعد ساتھیوں سے کہا کہ جو بھی انھیں دھوکا دے گا، اسے مار دیا جائے گا، چاہے وہ اس کا قریبی عزیز ہو اور مرد یا عورت کوئی بھی ہو۔

ہاتھ نہ ملانے کی پاداش میں بھی ایل چاپو نے ایک مخالف گروہ کے رکن کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔

عدالت میں انکشاف ہوا کہ منشیات کے ایک اور بدنام گروہ نے صلح صفائی کے لیے اپنے ایک اہم رکن کو ایل چاپو کے پاس بھیجا۔ بات چیت کے بعد روڈولف نامی اُس مخالف نے گوزمین ایل چاپو سے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔

عینی شاہد کا کہنا تھا کہ روڈولف نے بات چیت ختم ہونے کے بعد واپسی کی ٹھانی تو گوزمین ایل چاپو نے اسے کہا، “ہم پھر ملیں گے میرے دوست اور مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا، لیکن اس نے نظر انداز کر دیا یا شاید وہ بڑھا ہوا ہاتھ دیکھ نہ سکا تھا۔ اصل بات کچھ بھی ہو، گوزمین نے اسے اپنی توہین سمجھا اور جلد ہی روڈولف اور اس کی اہلیہ دونوں کو گولی مار دی گئی۔

گوزمین ایل چاپو شمالی میکسیکو کا سب سے بڑا اور طاقت ور منشیات فروش ہے جس کا کاروبار امریکا سمیت کئی ملکوں میں پھیلا ہوا ہے۔ گوزمین کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے دوران پچاس عینی شاہدین نے اس کی سفاکی اور درندگی کے واقعات عدالت میں بیان کیے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں