The news is by your side.

Advertisement

کسی کو حراست میں رکھنے کی مدت زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹے ہے: چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی کو حراست میں رکھنے کی مدت زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹے ہے، اس کے بعد قیدی کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج سپریم کورٹ میں سابقہ فاٹا میں حراستی مراکز ختم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ انسانی زندگیوں اور آئینی آزادی کا معاملہ ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کسی کو حراست میں رکھنے کی مدت زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹے ہے، چوبیس گھنٹے میں قیدی کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے، کل تک قیدیوں کی تفصیلی فہرست عدالت کو فراہم کی جائے۔

بعد ازاں، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

قبل ازیں اٹارنی جنرل نے ججز کے بینچ میں قاضی فائز عیسیٰ کی شمولیت پر اعتراض کیا، جس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ وہ بدستورجج ہیں، ان پر کیسے اعتراض کیا جا سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس زیر التوا ہے۔ تاہم جسٹس مشیر نے کہا کہ کیا آپ اٹارنی جنرل کی حیثیت سے اعتراض اٹھا سکتے ہیں؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی میں اعتراض اٹھا سکتا ہوں اور میں اعتراض کر رہا ہوں۔ تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کا اعتراض مسترد کر دیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ آپ کا اعتراض نوٹ کر لیا ہے، آپ دلائل شروع کریں۔

چیف جسٹس کے استفسار پر کہ سماعت کیوں ملتوی کی جائے، اٹارنی جنرل نے کہا میں بنچ کے سامنے دلائل دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کیس حبس بے جا کا ہے، اگر متاثرہ افراد حبس بے جا میں ہیں تو سماعت ملتوی نہیں ہو سکتی، آپ تیار نہیں تو ہم درخواست گزار کے دلائل سنتے ہیں۔ جس پر فرحت اللہ بابر اور دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے دلائل کا آغاز ہوا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں