لندن (18 مئی 2026): میئر صادق خان نے لندن میں نسل پرستوں کی مسلم مخالف سرگرمیوں کو تشویش ناک قرار دے دیا ہے۔
صادق خان نے اپنے بیان میں کہا کہ دائیں بازو کے احتجاج کے اسٹیج پر ہونے والے واقعات خوف ناک ہیں، منتظمین لندن شہر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تقسیم پھیلانے کے ارادے سے آئے۔
میئر نے کہا احتجاج کے دوران اسٹیج پر نقاب پوش فرانسیسی خواتین نے مسلم شعار کا مذاق اڑایا ہے، برقع پوش فرانسیسی خواتین نے نازیبا حرکات سے مسلمانوں کے دل دکھائے، جس سے مسلمانوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
میئر صادق خان نے کہا نسل پرستوں کے احتجاجی اسٹیج سے اسلام اور تارکین وطن کے خلاف زہریلی تقاریر کی گئیں، پولیس نے مختلف علاقوں میں کارروائی کر کے 40 سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے، ہم شہر میں نفرت پھیلانے اور کمیونٹیز کو تقسیم کرنے والے عناصر کو مسترد کرتے ہیں۔
برطانیہ میں جعلی عامل کو عمر قید کی سزا
واضح رہے کہ دائیں بازو کے رہنما ٹامی رابنسن کی جانب سے فوج کے ذریعے تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ریلی سے قبل 11 ’’انتہا پسند دائیں بازو کے اشتعال انگیز افراد‘‘ پر برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ افراد اسلام مخالف کارکن ٹومی رابنسن کی جانب سے منعقدہ ریلی میں شرکت کرنا چاہتے تھے۔
ہفتے کے روز لندن میں یونائٹ دی کنگڈم کے عنوان سے احتجاج کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، سر کیئر اسٹارمر نے احتجاج سے قبل کہا ’’ہم اس ملک کی روح کے لیے ایک جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس ہفتے ہونے والا یونائٹ دی کنگڈم مارچ واضح یاد دہانی ہے کہ ہمیں کس چیز کا سامنا ہے۔‘‘
جمعہ کے روز جاری اپنے بیان میں سر کیئر نے کہا ’’اس مارچ کے منتظمین نفرت اور تقسیم کو فروغ دے رہے ہیں، بالکل واضح طور پر ہم ایسے افراد کو برطانیہ میں داخل ہونے سے روکیں گے جو نفرت اور تشدد بھڑکانا چاہتے ہیں۔ جو کوئی بھی ہماری سڑکوں پر فساد پھیلانے، لوگوں کو ڈرانے یا دھمکانے کی کوشش کرے گا، اسے قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘
یاد رہے کہ لندن میں اینٹی امیگریشن احتجاج کے سلسلے میں یونائٹ دی کنگڈم ریلی کے دوران تین فرانسیسی خواتین اسٹیج پر آئیں اور انھوں نے سیاہ برقع پہنے ہوئے تھے، اسٹیج پر آ کر انھوں نے برقع اتارے اور پھر اسلام اور برقع کے خلاف نفرت انگیز بیانات دیے، اس واقعے کی ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ ان خواتین کا تعلق فرانسیسی گروپ نیمیسس سے بتایا جا رہا ہے، جو خود کو فیمنسٹ اور اینٹی اسلامسٹ تنظیم کہتی ہے، مگر ناقدین اسے فرانسیسی انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں کے قریب سمجھتے ہیں۔ ریڈٹ اور دیگر پلیٹ فارمز پر یہ بحث بھی ہوئی کہ آیا یہ ’’خواتین کے حقوق‘‘ کا احتجاج تھا یا اسلام مخالف سیاسی مظاہرہ۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


