The news is by your side.

Advertisement

‏’مزار قائد اجتماعی زیادتی مقدمے کا فیصلہ چیلنج کیاجائے‘‏

گورنرسندھ عمران اسماعیل نے سیشن کورٹ کی جانب سے مزارقائد اجتماعی زیادتی مقدمے کا فیصلہ اعلیٰ ‏عدالت میں چیلنج کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو خط لکھ دیا۔

گورنر سندھ نے ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کو الگ الگ خط لکھے جس میں کہا گیا ہے کہ سیشن کورٹ ‏کا فیصلہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے مطابقت نہیں ہے اس فیصلے سے خواتین میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ ‏گیا ہے۔

ایک روز قبل سندھ ہائی کورٹ نے مزار قائد زیادتی کیس میں ملزمان کی بریت 8 سال بعد کالعدم قرار دیتے ہوئے ‏مقدمہ از سر نو سماعت کرنے کا فیصلہ سنایا اور ٹرائل کورٹ کو حکم دیا کہ عدالتی کارروائی تین ماہ میں مکمل ‏کر کے فیصلہ سنایا جائے، واقعہ کے مجموعی طور پر 13 سال بیت گئے ذمہ داران کو سزا نہ مل سکی۔

سندھ ہائی کورٹ نے ملزمان مزار قائد اکائونٹنٹ راجہ عارف، انجینئر عارف انصاری اور سکیورٹی سپروائزر خادم ‏حسین کی بریت کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے سیشن عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔

یاد رہے 2008 میں جنوبی پنجاب سے زیارت کے لئے آنے والی خاتون رضیہ الکبریٰ کو ملزمان نےاجتماعی زیادتی کا ‏نشانہ بنایا تھا۔ متاثرہ خاتون کی شناخت پر ملزم سکیورٹی سپروائزر خادم حسین کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ‏مقدمے میں ڈی این اے کی رپورٹ آنے کے بعد ملزمان مزارِ قائد سیکورٹی کے اکاؤنٹنٹ راجہ عارف اور ریڈیڈنٹ ‏انجینئر کے پی اے عارف انصاری کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں