مظہر امام کو اردو شاعری میں جدت طراز اور اس صنفِ ادب میں ان تجربات کی وجہ سے بھی شہرت ملی جس نے انھیں آزاد غزل کا موجد بنایا۔ مظہر امام نے ۱۹۴۳ء سے ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ کلکتہ میں ان کا بڑا وقت گزرا اور ادبی سرگرمیوں کا حصہ رہے۔ وہیں ان کی ادبی پہچان کا سفر بھی تیزی سے آگے بڑھا اور شعر و ادب کی دنیا میں ترقی کی۔
ابتدائی دنوں میں مظہر امام ترقی پسند تحریک کے اسیر رہے جیل بھی گئے۔ شاعری میں جوش ملیح آبادی سے متاثر رہے، فیض، راشد، اخترالایمان اور فراق کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کیا، لیکن نوجوانی میں رئیس المتغزلین جگرؔ مراد آبادی کا کلام ادبی پرچوں میں پڑھا اور ان کے ترنم کا شہرہ سنا تو بہت اشتیاق ہوا کہ ان سے ملاقات ہو مظہر امام کی یہ خواہش پوری ہوئی۔
جگر صاحب سے اپنے ابتدائی تعارف اور بعد میں ملاقات کا احوال مظہر صاحب نے اپنے ایک مضمون میں رقم کیا ہے جس سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
جگرؔ صاحب کی دو غزلیں میٹرک کے نصاب میں شامل تھیں، جن میں سے ایک تو وہ تھی جس کا مطلع ہے:
کسی نے پھر نہ سنا درد کے فسانے کو
مرے نہ ہونے سے راحت ہوئی زمانے کو
اور امتحان میں ایک دفعہ اسے میر دردؔ کا مطلع سمجھ کر میں نے تشریح میں غلطی کی تھی۔ انھیں دنوں یا اس سے کچھ پہلے ‘‘مدینہ’’ بجنور میں ان کی غزلیں باقاعدگی سے پڑھنے کا موقع ملتا تھا۔ اس وقت ‘‘مدینہ’’ اردو کا بڑا معیاری اور مقبول اخبار تھا۔ جگرؔ صاحب کی مشہور غزلیں یا نظمیں (جگر صاحب نے ان مسلسل غزلوں کو نظموں میں شامل کیا ہے)
آئی جو ان کی یاد تو آتی چلی گئی (‘‘یاد’’) اور….مدّت میں وہ پھر تازہ ملاقات کا عالم (‘‘تجدید ملاقات’’) میں نے پہلی دفعہ ‘‘مدینہ’’ میں ہی پڑھی تھیں۔ ۱۷، ۱۸ سال پہلے کی بات کل ہی کی بات معلوم ہوتی ہے۔ مؤخرالذّکر غزل مسلسل کے ساتھ ایک ادارتی نوٹ بھی تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ترکِ شراب اور نکاحِ ثانی کے بعد یہ جگرؔ صاحب کا پہلا کلام ہے۔
جگرؔ صاحب کے متعلق اتنا کچھ سننے میں آتا کہ کم سے کم ان کی صورت دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہونا لازمی تھا۔ پھر ان کے مسحور کُن ترنم کے چرچے تھے۔ بعض احباب اور شناسا جگرؔ صاحب کے ترنمّ کی نقل بھی کیا کرتے۔ اس لیے انھیں ‘‘بہ نفسِ نفیس’’ سننے کا شوق بھی تھا، اور بعد میں ان سے ملنے، بات چیت کرنے اور ان کی ہم نشینی کا شرف حاصل کرنے کی آرزو بھی پیدا ہوئی۔ اپنی پسند کی بڑی شخصیتوں سے ملنے کی خواہش میرے نزدیک عین فطری ہے۔ میں نے تو بڑے سے بڑے ‘‘بے نیاز’’ قسم کے لوگوں کو بھی اسی آرزو میں تڑپتے دیکھا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کا احساسِ کمتری ملنے ملانے میں پہل نہیں کرتا بلکہ متوقع رہتا ہے کہ ان سے بڑی شخصیت خود پہلے ان کی طرف متوجہ ہو۔
جگرؔ صاحب سے میری پہلی اور آخری ملاقات ۱۹۵۳ء میں ہوئی جب میں کلکتہ میں تھا۔ ‘‘آتش گل’’ کو چھپوانے کا انتظام اے۔ ڈی اظہر صاحب نے کیا تھا جو ان دنوں چٹگاؤں میں کسی اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز تھے۔ آپ کو شعر و ادب کا بہت اچھا ذوق تھا۔ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ ان کی کوششوں سے ایک دفعہ حفیظؔ جالندھری کو چٹگاؤں میں پچیس ہزار روپے کی تھیلی پیش کی گئی تھی۔ آپ نے کلکتہ کے مشہور تاجر اور ‘‘عصرِ جدید’’ کے مالک خان بہادر محمد جان کے توسط سے جگرؔ صاحب کو رائلٹی کی رقم دلوانے کا بندوبست کیا تھا۔ جگرؔ صاحب روپے کی وصولی کے سلسلے میں کلکتہ آئے تھے اور اپنے ایک دیرینہ دوست کے یہاں کیننگ اسٹریٹ میں مقیم تھے۔ رائلٹی کی رقم کا صحیح علم نہیں۔ کچھ لوگ کہتے تھے ہزار روپے ملے ہیں، کسی نے بارہ سو بتائے۔ لیکن عام طور پر یہ سننے میں آیا کہ اظہر صاحب نے یہ مجموعہ پاکستان کے لیے دو ہزار میں خریدا ہے۔ حقیقت جو بھی ہو، البتہ میں نے جگر صاحب کی جیب میں سو سو کے کئی نوٹ اس شانِ بے نیازی سے رکھے ہوئے دیکھے تھے کہ ان کے کسی لمحے بھی جیب سے نکل کر گر پڑنے کا پورا امکان تھا۔
اتفاق سے انھیں دنوں سی-ایم-او ہائی اسکول میں پہلی دفعہ بزم مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ پرویزؔ شاہدی اسکول کے نئے ہیڈ ماسٹر تھے، اور سالکؔ لکھنوی سیکریٹری۔ میں بھی اس اسکول سے متعلق تھا۔ یہ اسکول یتیم خانہ اسلامیہ کلکتہ کا قائم کردہ ہے جس کے سیکریٹری احمد اللہ بزمی انصاری ہیں۔ جگرؔ صاحب مشاعرے میں ‘‘بلا معاوضہ’’ شرکت کے لیے بلا تکلف تیار ہوگئے۔ وہاں انہوں نے تین غزلیں سنائیں، جن میں ایک وہ غزل تھی جس کا مشہور شعر ہے:
تو مرے حالِ پریشاں پہ بہت طنز نہ کر
اپنے گیسو بھی ذرا دیکھ کہاں تک پہنچے
جگرؔ صاحب کلکتے میں دو ہفتوں سے زیادہ ہی ٹھہرے ہوں گے۔ میں کولو ٹولہ اسٹریٹ میں رہتا تھا جو کیننگ اسٹریٹ سے متصل ہے۔ جگرؔ صاحب کی خدمت میں اکثر حاضر ہوتا رہتا تھا۔ جب بھی گیا وہ تاش کھیلنے میں مصروف نظر آئے۔ کوئی ملنے والا آتا تو تاش چھوڑ کر اس کی طرف مخاطب ہوجاتے۔ ان کی گفتگو کا انداز بالکل ویسا ہی تھا، جیسا محمد طفیل اڈیٹر ‘‘نقوش’’ نے اپنے خاکے ‘‘جگرؔ صاحب’’ میں پیش کیا ہے۔ ابھی سیاسیات پر گفتگو ہو ہی رہی ہے کہ اچانک تصوّف اور الہٰیات کی طرف مڑ گئے، پھر عشقیہ شاعری کی طرف، پھر احباب کے بعض کارناموں کی طرف۔۔۔ باتیں اکثر اکھڑی اکھڑی اور بے ربط ہوتیں، لیکن پھر بھی جی چاہتا کہ انھیں ہی بولنے کا موقع دیا جائے۔ ان کے اندازِ گفتگو میں کچھ اتنی طفلانہ معصومیت ہوتی کہ میں سوچنے لگتا، آخر یہ شخص وارداتِ حسن و عشق کے گہرے نفسیاتی رموز سے کس طرح واقف ہوسکا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


