بدھ, مئی 20, 2026
اشتہار

کرشن چندر اور ‘‘نئی کرن’’ کا پہلا شمارہ

اشتہار

حیرت انگیز

فروری ۴۹ء میں ریلوے اسٹرائک کے خطرے کے پیش نظر مجھے گرفتار کرلیا گیا۔ میرے ساتھ منظر شہاب بھی گرفتار ہوئے تھے۔

ہم لوگوں نے ایک ترقی پسند رسالے ‘‘نئی کرن’’ کا اجرا کیا تھا۔ اس کے پرچے بھی پولیس اٹھا کر لے گئی تھی۔ انہیں دنوں کچھ اور ادیبوں اور شاعروں کی گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی، مثلاً خلیل الرحمٰن اعظمی کی۔ سردار جعفری شاید پہلے ہی سے جیل میں تھے۔ بمبئی میں ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا، جس کی صدارت کرشن چندر نے کی۔ ملک راج آنند، ساغرؔ نظامی وغیرہ نے بھی تقریریں کی تھیں۔ کرشن چندر نے اپنے خطبۂ صدارت میں گرفتار شدگان کا نام لیتے ہوئے ‘‘بہار کے لیکھک ایم۔ امام’’ کا نام بھی لیا تھا۔ اس وقت تک ایم۔ امام کے نام سے میری کچھ چیزیں چھپتی ضرور تھیں، لیکن کسی اہم رسالے میں نہیں۔ ‘‘نئی کرن’’ کے ادارہ میں بھی یہی نام تھا۔ اس وقت کے سب سے بڑے ادیب نے مجھ جیسے نو عمر لکھنے والے کا نام اپنے ایک مضمون میں لیا، اس سے بڑھ کر افتخار کی بات میرے لیے اور کیا ہوسکتی تھی۔

کرشن چندر کو میں نے ‘‘نئی کرن’’ کا پہلا شمارہ بھجوایا تو تھا، مگر احساسِ شرمندگی کے ساتھ، کیوں کہ اس شمارے کا معیار حسبِ خواہ نہ تھا۔ دوسرے اس میں ان کی فلم ‘‘سرائے کے باہر’’ پر میرا ایک سخت جارحانہ تبصرہ بھی شامل تھا۔ کرشن چندر کی جانب سے کوئی رسید نہیں آئی تو میں نے انہیں یاد دہانی کا خط لکھا۔ انہوں نے اپنی مصروفیات کی تفصیل بتاتے ہوئے معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کیا:

‘‘یہ سطریں بھی محض اس خیال سے لکھ رہا ہوں کہ کہیں آپ میری خاموشی کا غلط مفہوم نہ نکال لیں۔’’

(اردو کے نام ور افسانہ نگار کرشن چندر سے متعلق اردو کے معروف شاعر اور نقاد مظہر امام کی یادوں پر مبنی ایک تحریر سے اقتباس)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں