The news is by your side.

Advertisement

اللہ کے ‘‘بندوں’’ کو آتی نہیں رُوباہی!

52ء کی کُل ہند امن کانفرنس ایک تاریخی کانفرنس تھی، اور ہر چند کلکتہ جلسوں اور جلوسوں کا شہر ہے، لیکن اس کانفرنس کی نوعیت اپنی ایک منفرد اور جداگانہ شان رکھتی تھی۔

کئی نام وَر شخصیتوں نے اس کانفرنس کو کام یاب بنانے میں براہِ راست حصہ لیا۔ ڈاکٹر سیف الدین کچلو، ملک راج آنند، ہیرن مکر جی، گوپال ہلدار، کرشن چندر، مجازؔ، سردارؔ جعفری، پرویزؔ شاہدی، مخدومؔ محی الدّین، مجروحؔ سلطان پوری، کیفیؔ اعظمی، نیازؔ حیدر، وامقؔ جونپوری، اشک امرتسری، خواجہ احمد عباس، انور عظیم، پرکاش پنڈت، رضیہ سجاد ظہیر، سید عبدالمالک، پرتھوی راج کپور، سلیل چودھری، سریندر کور، اچلا سچدیو، امر شیخ، رام کمار اور بہت سے ادیب، شاعر، دانش ور، فن کار۔

اس کانفرنس کی بہت سی باتیں ذہن سے محو نہیں ہوتیں۔ کسی سب کمیٹی کے اجلاس میں اسرارُالحق مجازؔ نے بھی انگریزی میں ایک تقریر کی۔ ان دنوں ان پر جنون کا حملہ تھا۔ نہ جانے انھوں نے کیا کچھ کہا۔ وہ اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد باہر آئے تو میں نے ان سے کہا:

‘‘مجازؔ صاحب! سنا ہے آپ نے بڑی ولولہ انگیز تقریر کی۔’’

مجازؔ نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا: ‘‘آپ نے نہیں سُنی؟’’

‘‘معاف کیجیے میں ذرا دیر سے پہنچا۔’’

“Then I must commit suicide!” (تب تو مجھے خود کُشی کرلینی چاہیے)

مجازؔ کی طبعی حسِ ظرافت جاگی ہوئی تھی۔ انھیں پتہ نہیں تھا کہ انھوں نے قسطوں میں کب سے ‘‘خودکشی’’ کر رکھی ہے۔

اسی وقت سردار جعفری بھی آگئے اور چٹخارے لے لے کر مجازؔ کی تعریف کرنے لگے: ‘‘تم نے بڑی کھری کھری باتیں کہیں، سچ ہے۔ اللہ کے بندوں کو آتی نہیں رُوباہی!’’

مجازؔ کی رگِ ظرافت پھر پھڑکی: ‘‘روباہیؔ تخلّص ہے کیا؟’’

سردارؔ جعفری نے اس وار کی چوٹ محسوس کی اور مسکراتے ہوئے وہاں سے چل دیے مجازؔ نے پیچھے سے داغا:

‘‘آداب عرض ہے!’’

اس کانفرنس کے ساتھ ہی ایک آل انڈیا مشاعرہ بھی منعقد ہوا تھا۔ کلکتہ کی تاریخ میں شاید اتنا شان دار مشاعرہ کبھی نہیں ہوا۔ لگ بھگ بیس پچیس ہزار سامعین تھے۔ کرشن چندر نے صدارت کی تھی۔ فیضؔ اور سجّادؔ ظہیر پاکستان کی جیلوں میں بند تھے۔ اس مشاعرے میں فیضؔ کی غزل مجروحؔ نے اور سجّادؔ ظہیر کی وامقؔ نے اپنے اپنے مخصوص ترنم میں سنائی تھی۔

اس مشاعرے کے کام یاب ترین شعرا کیفیؔ اعظمی، پرویزؔ شاہدی اور نیاز حیدر تھے۔ اسی مشاعرہ کا واقعہ ہے کہ جب مجازؔ مائک پر آئے تو انھوں نے اپنا کلام سنانے سے پہلے کہا:

‘‘میرے دوست کرشن چندر نے فرمائش کی ہے کہ میں PEACE پر کوئی نظم پڑھوں، تو میں اپنا کلام CUT-PIECE (کٹ پیس) میں سنا رہا ہوں۔’’ اور اس کے بعد انھوں نے کچھ متفرق اشعار اور قطعات سنائے جن میں سے ایک یہ تھا:

نطق رُسوا، دہن دریدہ ہے
یہ شنیدہ نہیں ہے، دیدہ ہے
رندرِ برباد کو نصیحت ہے
شیخ کی شان میں قصیدہ ہے

(ہندوستان کے ممتاز شاعر اور نقّاد مظہر امام کے “کرشن چندر” کے عنوان سے لکھے گئے مضمون سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں