(27 نومبر 2025): سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں میں شامل ہونے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن کے حالیہ دورے کے دوران صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد پر ابراہیمی معاہدے میں شمولیت پر زور ڈالا، محمد بن سلمان نے کہا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے ساتھ کوئی بھی تعلق یا ’نارملازئزیشن‘ صرف اس وقت ممکن ہے جب اسرائیل دو ریاستی حل کو تسلیم کرے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ اکسئیس کے مطابق سعودی ولی عہد نے ملاقات کے دوران اپنے سعودی عرب کے فلسطین کے حوالے سے پختہ موقف کو دہرایا اور کہا کہ فلسطین سعودی خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح رکھتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے ساتھ کوئی بھی تعلق یا ’نارملازئزیشن‘ صرف اس وقت ممکن ہے جب اسرائیل دو ریاستی حل کو تسلیم کرے اور سنہ 1967 کی سرحدوں میں ایک فلسطینی ریاست قائم کرے، جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔
اکسیس کے مطابق ولی عہد نے صدر ٹرمپ کی درخواست کے سامنے مضبوط موقف اپنایا اور اس پر قائم رہے، جبکہ امریکی حکام نے بھی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو "طاقتور شخصیت” قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد نے واشنگٹن کا ایک سرکاری دورہ کیا، جو سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر صدر ٹرمپ کی دعوت پر ہوا۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے 18 نومبر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی، جس کا استقبال خصوصی طور پر کیا گیا، ملاقات کے بعد ولی عہد نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران مشرق وسطیٰ کے تنازع پر سعودی عرب کی پالیسی کی وضاحت کی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل، فلسطینی اور پورے خطے کے ساتھ امن چاہتا ہے اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے ایک واضح منصوبہ تیار کر رہا ہے، جو دو ریاستی حل کی سمت میں حقیقی پیش رفت فراہم کرے گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


