اسلام آباد : پاکستان میں رواں سال ایم ڈی کیٹ کا امتحان 20 ستمبر کو ہوگا، پیپر لیک ہونے کی صورت میں پورے ملک کا امتحان منسوخ کرنے کے خدشے کو ختم کرنے کے لیے ہر صوبے کو دو الگ پرچے فراہم کیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کے لیے ایم ڈی کیٹ کا امتحان 20 ستمبر کو منعقد ہوگا، جس کے لیے 1 لاکھ 38 ہزار 160 امیدوار رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایم ڈی کیٹ کے لیے ملک بھر میں 34 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ایک سینٹر سعودی عرب کے شہر ریاض میں بھی بنایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایم ڈی کیٹ کا پرچہ 180 سوالات پر مشتمل ہوگا، جبکہ امتحان کے لیے مجموعی طور پر 8 ہزار سوالات تیار کیے گئے ہیں۔ سوالات ملک بھر سے منتخب کیے گئے ماہرین نے تیار کیے ہیں۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق رواں سال ایم ڈی کیٹ کے نظام میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے، پیپر لیک ہونے کی صورت میں پورے ملک کا امتحان منسوخ کرنے کے خدشے کو ختم کرنے کے لیے ہر صوبے کو دو الگ پرچے فراہم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کی ذمہ داری صوبوں اور میڈیکل یونیورسٹیز کی ہے، جبکہ وزارت صحت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل امتحان کی نگرانی کریں گے۔
آزاد کشمیر کے طلبہ کے لیے الگ پورٹل بھی کھولا گیا ہے، جبکہ انٹرنیٹ کے مسائل کے باعث وہاں طلبہ کو ایم ڈی کیٹ کی ہارڈ کاپی فراہم کی جائے گی۔ آزاد کشمیر کے طلبہ کے لیے اسلام آباد میں بھی خصوصی امتحانی مرکز قائم کیا گیا ہے۔
ٹیسٹ کے پیپر میں بائیولوجی، کیمسٹری (کیمیا)، فزکس (طبیعیات)، انگریزی اور آئی کیو (IQ) سے متعلق سوالات شامل ہوں گے۔
سندھ میں ایم ڈی کیٹ کا امتحان سیبا ٹیسٹنگ سروسز کے تحت ہوگا، جس کے لیے کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی (NED) اور ڈاؤ یونیورسٹی میں امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حیدرآباد، جامشورو، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد اور اسلام آباد میں بھی امتحانی سینٹرز بنائے گئے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق مراکز پر امیدواروں کے لیے ضروری اسٹیشنری اور صاف پینے کے پانی کا انتظام ہوگا، جبکہ والدین کے لیے بھی انتظار گاہیں قائم کی گئی ہیں۔


