پنجاب میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی، متعدد بچے متاثر
The news is by your side.

Advertisement

پنجاب میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی، متعدد بچے متاثر

لاہور: پنجاب کے دارلحکومت سمیت دیگر علاقوں اور اضلاع میں خسرہ کی وبا نے شدت اختیار کرلی جس کے باعث اب تک سیکڑوں بچے متاثر ہوچکے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب میں خسرہ کےخلاف آخری مہم 2015 میں چلائی گئی تھی، 3سال تک انسدادخسرہ  مہم نہ چلانے کے باعث بیماری نے دوبارہ سر اٹھا لیا اور یہ وبا شدت اختیار کرگئی۔

عالمی ادارہ صحت (یونیسیف) کے مطابق ہر 3 سال بعد انسداد خسرہ مہم لازم و ملزوم ہے، تین سال تک بچوں کو ویکسنیشن نہ ملنے کے باعث وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن پنجاب حکومت نے وبا کوکنٹرول کے لیے کوئی حکمت عملی مرتب نہیں کی۔

ذرائع کے مطابق لاہورسمیت پنجاب کےدیگراضلاع میں خسرہ کی وبا پھوٹنے سے متعدد بچے متاثر ہوئے، راولپنڈی میں اب تک 500 سے زائد بچوں میں خسرہ بیماری کی تصدیق ہوچکی ہے۔

دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے سے انسداد خسرہ مہم دوبارہ شروع کی جائے گی، پہلے مرحلے میں اُن یوسیز اور کونسلز میں ویکسنیشن دی جائے گی جہاں بچے زیادہ متاثر ہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب: ایڈز کا موذی مرض بے قابو، 21 شہریوں میں‌ تشخیص

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب جنہیں خادم اعلیٰ کا لقب ملا ہوا ہے وہ اپنے صوبے میں عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے دیگر حکومتوں کو چیلنج دیتے نظر آتے ہیں مگر صورتحال اس کے برعکس سامنے ہی آتی ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں رواں برس فروری میں 21 جبکہ گزشتہ برس ستمبر میں 57 ایڈز کے کیسز سامنے آئے تھے، موذی مرض میں مبتلا 17 افراد جاں بحق بھی ہوئے تھے۔

گذشتہ برس چینوٹ میں بھی محکمہ صحت کی جانب سے ہیپاٹائٹس کا کیمپ لگایا گیا تھا تو وہاں 70 افراد کے ٹیسٹ میں سے 42 میں ایچ آئی وی کا رزلٹ مثبت آیا جس کے بعد ضلعی حکومت سمیت صوبائی حکومت بھی حرکت میں آگئی تھی۔

دوسری جانب محکمہ صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ مرض جنسی تعلقات کی وجہ سے نہیں بلکہ خون کی غیر محفوظ منتقلی، عطائی ڈاکٹروں کی طرف سے ایک ہی سرنج کو بار بار استعمال کرنے اور حجام کی دکانوں پر موجود بلیڈ کے بار بار استعمال کرنے کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں