علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہاسٹل کے مینو سے گوشت کی ڈشز ہٹا دی گئیں -
The news is by your side.

Advertisement

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہاسٹل کے مینو سے گوشت کی ڈشز ہٹا دی گئیں

نئی دہلی : اترپردیش میں گوشت کی دکانوں اورمذبح خانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا اثرتعلیمی اداروں تک پہنچ گیا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہاسٹل کے مینوسے گوشت کی ڈشزہٹا دی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق یوپی کے انتہاپسند وزیراعلیٰ یوگی ناتھ کی انتہا پسندی نے تعلیمی اداروں کوبھی لپیٹ میں لے لیا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہاسٹلز کے مینو سے گوشت کی ڈشزہٹا دی گئیں، گوشت کی ڈشز کی عدم موجودگی کی وجہ سے طلبا سبزی کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

طلباء نے مسئلہ حل کرنے کے لئے وائس چانسلر کو خط لکھ دیا جس میں وائس چانسلرسے مداخلت کی اپیل کی ہے، طلبا یونین کا کہنا ہے زبردستی سبزیاں کھلائے جانا منظور نہیں۔

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ کے حکم پر یوپی میں گوشت کی دکانیں اور مذبح خانے بند کرائے جارہے ہیں، جس سے مسلمانوں، دلتوں اور اس شعبے سے وابستہ دیگر افراد کا کاروباربری طرح متاثر ہوا ہے جبکہ اتر پردیش میں انتہاپسند ہندو نے گوشت کی دکانوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔

گوشت کی دکانیں پر کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے گوشت بیچنے والوں نے غیر معینہ ہڑتال کردی ہے جبکہ دارالحکومت لکھنؤ میں ہوٹل اور ریستوران مالکان کے مطابق 70 فیصد گوشت کی دکانیں بند ہوگئی ہے۔


مزید پڑھیں : بھارت میں انتہا پسند بے قابو، گوشت کی دکانوں کو آگ لگا دی


واضح رہے کہ بھارتی ریاست اتر پردیش کے انتخابات میں کامیابی کے بعد بی جے پی کے رہنما ادتیہ ناتھ نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی پوری ریاست میں گوشت کی دکانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

اس سے قبل ریاست گجرات میں بھی ریاستی حکومت نے گائے ذبح کرنے والوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کرتے ہوئے ذبح کرنے والے کے لیے عمر قید کی سزا تجویز کی تھی۔

یاد رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 2001 سے 2014 تک ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ رہے تھے اور ان کے دور میں گجرات میں گائے ذبح کرنے، گائے کے گوشت کی نقل و حمل اور اس کی فروخت پر مکمل پابندی عائد تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں