The news is by your side.

Advertisement

صحافیوں نے میڈیا کورٹس بنانے کے حکومتی اقدام کو مسترد کردیا، پی پی، ن لیگ کی بھی مخالفت

کراچی : میڈیا کورٹس بنانے کے حکومتی اقدام کو صحافیوں کی تنظیموں نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عدالتیں صحافیوں پر دباؤ کا آلہ ثابت ہوں گی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی معروف صحافتی تنظیمیں پی ایف یو جے اور پی بی اے نے حکومت کے میڈیا کورٹس بنانے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔

اس حوالے سے فیڈرل یونین آف جرنلٹس کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ میڈیا کورٹس صحافیوں پر دباؤ کا آلہ ثابت ہوں گی، ایسی عدالتیں آمرانہ اور مارشل لا دور کی یاد دلاتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار رائے کا نعرہ لگانے والی حکومت سے ایسی توقع نہیں تھی۔

صحافتی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان میڈیا ٹریبونلز کے قیام کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیں، اس کے علاوہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے بھی میڈیا کورٹس کے قیام کی مخالفت کی ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم عمران خان میڈیا کو اپنا پارٹنر سمجھتے ہیں: فردوس عاشق اعوان

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان میڈیا کو اپنا پارٹنر سمجھتے ہیں، جلد ایک ڈیجیٹلائزیشن پالیسی متعارف کروانے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ورکرز کا وجود میڈیا میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، پی بی اے کے پاس میڈیا پالیسی کی تجاویز آگئی ہیں، امید ہے مشاورت کے بعد میڈیا ورکرز کے لیے سہولت نکالنے میں کامیاب ہوں گے۔

پی بی اے نے پیمرا کے حوالے سے شکایات اور گلے شکوے مجھ سے کیے۔ ہم سمجھتے ہیں کسی سے ناانصافی نہیں ہونی چاہیئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں