پیر, جون 8, 2026
اشتہار

میڈیکل و ڈینٹل طلبا کیلیے بڑا فیصلہ

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد، 12 مئی 2026ء: نائب وزیراعظم محترم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے ریگولیٹری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔

میڈیکل و ڈینٹل کالجز اور پوسٹ گریجویٹ (PG) اہلیتوں کی ایکریڈیٹیشن سے متعلق  اس کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس آج منعقد ہوا، جس میں پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے نظام کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانے کے لیے جاری اصلاحات اور ریگولیٹری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

ذیلی کمیٹیاں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی ایکریڈیٹیشن کے نظام میں شفافیت کو فروغ دینے، معیاری طریقہ کار متعارف کرانے، اور انڈرگریجویٹ و پوسٹ گریجویٹ اہلیتوں کی منظوری اور انسپکشن کے عمل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر بنانے پر توجہ مرکوز تھیں۔

اجلاس کے دوران میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کے انسپکشن کے طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے اداروں کے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی انسپکشن کے لیے جاری کوششوں پر پی ایم ڈی سی کو سراہا۔ کمیٹی کے اراکین کو اب تک متعارف کروائی گئی نئی اصلاحات، جدید طریقہ کار اور انسپکشن کے معیار اور ساکھ کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ انسپکشن کے معیار اور طریقہ کار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور غفلت، بے ضابطگی یا قواعد کی خلاف ورزی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان میں صحت کے شعبے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

اجلاس میں غیر ملکی گریجویٹس سے متعلق امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے واضح فیصلہ کیا کہ بیرونِ ملک میڈیکل یا ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند تمام طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ (MDCAT) امتحان میں کامیابی حاصل کرنا اور بیرونِ ملک روانگی سے قبل پی ایم ڈی سی سے رجسٹریشن کروانا لازمی ہوگا تاکہ مستقبل میں ڈگری کی منظوری، لائسنسنگ یا رجسٹریشن کے حوالے سے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طلبہ داخلہ لینے سے قبل اس امر کی تصدیق کریں کہ متعلقہ غیر ملکی میڈیکل ادارہ پی ایم اینڈ ڈی سی کی منظور شدہ غیر ملکی اداروں کی فہرست میں شامل ہے۔ مزید برآں، ادارے کا ورلڈ فیڈریشن فار میڈیکل ایجوکیشن (WFME) سے منظور شدہ ہونا یا ورلڈ ڈائریکٹری آف میڈیکل اسکولز میں شامل ہونا لازمی ہوگا۔

میڈیکل تعلیم کم از کم پانچ سالہ دورانیے پر مشتمل ہوگی، جس میں 6,200 تدریسی گھنٹے اور کم از کم 80 فیصد حاضری لازمی قرار دی گئی ہے۔

کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ جن ممالک میں تدریس کا ذریعہ انگریزی نہیں ہے وہاں طلبہ کو طبی تعلیم شروع کرنے سے قبل کم از کم پانچ ماہ مقامی زبان سیکھنے میں صرف کرنا ہوں گے تاکہ مؤثر رابطے اور تعلیمی فہم کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس کے علاوہ، غیر ملکی ڈگری مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں رجسٹریشن حاصل کرنے کے لیے طلبہ کو پی ایم اینڈ ڈی سی کے نیشنل رجسٹریشن امتحان میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔

کمیٹی نے طلبہ کو ہدایت کی کہ بیرونِ ملک روانگی سے قبل اپنے رہائشی پتے اور رابطہ نمبرز کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔ طلبہ کو یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی تعلیم کے پورے دورانیے کے لیے ملٹی پل انٹری ویزا حاصل کریں۔

کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ اقدامات پاکستانی میڈیکل طلبہ کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کے تحفظ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق طبی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کروائے گئے ہیں۔

+ posts

جہانگیر خان اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے نمائندے ہیں۔ وہ پارلیمانی امور، صحت، کشمیر، جی بی اور پیپلز پارٹی سے متعلق خبریں رپورٹ کرتے ہیں۔

اہم ترین

جہانگیر خان
جہانگیر خان
جہانگیر خان اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے نمائندے ہیں۔ وہ پارلیمانی امور، صحت، کشمیر، جی بی اور پیپلز پارٹی سے متعلق خبریں رپورٹ کرتے ہیں۔

مزید خبریں