لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش کے واقعے پر جنرل اسپتال میں زیرعلاج زخمی طالبہ کےعلاج کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔
پروفیسر جودت سلیم میڈیکل بورڈ کے سربراہ مقرر کیے گئے ہیں جب کہ پروفیسر شہزاد حسین شاہ نیورو سرجن میڈیکل بورڈ میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر محمد شبیر احمد چوہدری ایسوسی ایٹ پروفیسر سرجری بورڈ کا حصہ ہوں گے۔
ڈاکٹر طاہر محمود ایسوسی ایٹ پروفیسر آرتھوپیڈک میڈیکل بورڈ میں شامل ہیں۔
پرنسپل پروفیسر فاروق افضل کے مطابق زخمی طالبہ کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔
پرنسپل اےایم سی کی جانب سے میڈیکل بورڈ کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ پرنسپل پروفیسر فاروق افضل کی میڈیکل بورڈ کے ارکان کو 24گھنٹے میں رپورٹ کی ہدایت کی گئی ہے۔
نجی یونیورسٹی میں خودکشی کرنے والی طالبہ کی حالت تشویشناک ہے ، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ فاطمہ کو سر اور سینے میں شدید چوٹیں آئی ہیں جبکہ دونوں ٹانگیں بھی فریکچر ہوئی ہیں۔
اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ طالبہ کے سر، سینے اور ٹانگوں میں شدید چوٹیں آئی ہیں جبکہ ہاتھ اور پسلیاں بھی فریکچر ہو چکی ہیں۔
طالبہ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد جنرل اسپتال کی آئی سی یو میں منتقل کیا گیا۔
24 سالہ فاطمہ کو 12:17 پر ایمرجنسی لایا گیا تھا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ خودکشی کی کوشش قرار دیا گیا، طالبہ وینٹی لیٹر پر پر جی سی ایس 6T/15 ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ڈائریکٹرایمرجنسی ڈاکٹر یحییٰ نے بتایا کہ فاطمہ کو سراور سینے میں شدید چوٹیں آئی ہیں، فاطمہ کی دونوں ٹانگیں بھی فریکچر ہوئی ہیں۔
ڈاکٹرز کے مطابق طالبہ کو وینٹی لیٹر پر بھی رکھا گیا ہے تاکہ اس کی زندگی کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔


