محکمہ داخلہ کوسفارش کی ہے نواز شریف کا تفصیلی طبی معائنہ دوبارہ کیاجائے،پروفیسرمحمودایاز
The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف کی زیادہ تربیماریوں کاعلاج پاکستان میں موجودہے ،پروفیسرمحمودایاز

صحت سے متعلق سفارشات محکمہ داخلہ کو بھیجیں گے

لاہور : میڈیکل بورڈکےسربراہ پروفیسرمحمودایاز کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی زیادہ تربیماریوں کاعلاج پاکستان میں موجودہے، صحت سے متعلق سفارشات محکمہ داخلہ کو بھیجیں گے، محکمہ داخلہ کوسفارش کی ہے نواز شریف کا تفصیلی طبی معائنہ دوبارہ کیا جائے، نواز شریف کو شفٹ کرنے کا حتمی فیصلہ محکمہ داخلہ کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق سروسز اسپتال میں سابق وزیراعظم نوازشریف کا تفصیلی طبی معائنہ مکمل ہوگیا، اسپتال کے پرنسپل اور میڈیکل بورڈکےسربراہ پروفیسر  محمود ایاز نے میڈیا بریفنگ میں کہا ہمارے پاس 3 ٹرمز آف ریفرنس تھے، پہلے دن ہم نے نواز شریف کا تفصیلی طبی معائنہ کیا، تمام ڈیپارٹمنٹس کے ہیڈز میڈیکل بورڈ میں شامل تھے، نوازشریف کے طبی معائنے سمیت خون ، ہارمون ، دل اور سٹی اسکین کیا۔

نواز شریف کی صحت سے متعلق سفارشات محکمہ داخلہ کو بھیجیں گے

پروفیسر محمود ایاز

پروفیسرمحمودایاز کا کہنا تھا کہ ہم نے نوازشریف کےگردے کے ٹیسٹ کیے، ٹانگوں، آنکھوں،دماغ کی شریانوں کےٹیسٹ کیے، ہم نےنوازشریف کاآج فائنل طبی معائنہ کیا ہے اور نوازشریف کی دوائیوں میں معمولی ردوبدل کی گئی ہے۔

میڈیکل بورڈکےسربراہ نے کہا محکمہ داخلہ کوتمام سفارشات بھجوائی جائیں گی، کسی مریض کاٹیسٹ کیاجاتاہےتوآئینی طورپررپورٹ نہیں بتا سکتے، نوازشریف کو بلڈ پریشر، شوگر،گردوں کامسئلہ اور خون کی شریانوں کامسئلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ داخلہ کوسفارش کی ہےتفصیلی طبی معائنہ دوبارہ کیاجائے، نواز شریف کی تمام بیماریوں کا علاج پاکستان میں ممکن ہے، صحت سے متعلق سفارشات محکمہ داخلہ کو بھیجیں گے، سفارش کی ہےدل کا  اسپیشلائزڈطبی معائنہ کیاجائے، نوازشریف کوشفٹ کرنےکاحتمی فیصلہ محکمہ داخلہ کرےگا۔

مزید پڑھیں : نوازشریف کا علاج پاکستان میں ممکن ہے‘پروفیسرڈاکٹرمحمود ایاز

صحافی نے سوال کیا نوازشریف کوہارٹ اٹیک کی خبریں چل رہی تھیں،کیا درست ہے، جس پر پروفیسرمحمودایاز نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے، نوازشریف کودل کےامراض ضرورلاحق ہیں۔

گذشتہ روز میڈیکل بورڈ کے سربراہ نے سابق وزیر اعظم کی بیماری سے متعلق کہا تھا کہ نواز شریف کی بیماریوں کا علاج پاکستان میں ممکن ہے، دل کے معاملے پر ماہر امراض قلب کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں اور میڈیکل بورڈ علاج سے متعلق مزید مشاورت بھی کر رہا ہے ۔

ڈاکٹر ایاز محمود کا کہنا تھا کہ طبی معائنے میں یہ بھی پتہ چلا کہ نواز شریف کو دل کا دورہ نہیں پڑا لیکن سی ٹی اسکین میںبائیں گردے میں پتھری ظاہر ہوئی ہے، جو دواؤں کےذریعے نکل سکتی ہے۔

یاد رہےسروسز ہسپتال میں زیر علاج نواز شریف کا ہارٹ اٹیک جاننے کے لیے خون کے نمونے ٹروپ آئی ٹیسٹ کے لیے پی آئی سی بجھوائے گئے تھے، جس کا رزلٹ نیگٹو آیا تھا ، ٹروپ آئی ٹیسٹ نیگٹو آنے کا مطلب ہے کہ نواز شریف کو ہارٹ اٹیک نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں : سزایافتہ نوازشریف کو ہارٹ اٹیک نہیں ہوا، میڈیکل رپورٹ میں تصدیق

خیال رہے نوازشریف کولاحق عارضہ قلب کامسئلہ پراناہے،سابق وزیراعظم نےدوہزارسولہ میں لندن سےاوپن ہارٹ سرجری بھی کرائی تھی۔

ہفتے کے روز نواز شریف کو سروسز اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں میڈیکل بورڈ کی سفارش پر شوگر اور بلڈ پریشر ٹیسٹ کئے گئے تھے، نواز شریف کے ایک گھنٹے تک سٹی اسکین اور الٹراساؤنڈ سمیت دیگر ٹیسٹ کیے گئے اور انھیں طبی معائنے کے بعد نیو او پی ڈی سے وی وی آئی پی بلاک پہنچادیا گیا تھا۔

واضح رہے میڈیکل بورڈ نے ای سی جی، کارڈیوگرافی اور دیگر ٹیسٹ کی تسلی بخش رپورٹ نہ آنے پر نواز شریف کو اسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی تھی، جس کے بعد وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے نوازشریف کو فوری اسپتال منتقل کرنے کی منظوری دی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں