The news is by your side.

Advertisement

سال 2016: شعبہ صحت میں کیا کچھ ہوا؟

سال 2016ء کے دوران شعبہ صحت میں عالمی اور پاکستان کی سطح پر کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں، کن بیماریوں پر قابو پایا گیا اور کونسی نئی ادویات سامنے آئیں، حکومتوں نے طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کیا اقدامات کیے ؟ آئیے اس کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

نگلیریا، پولیو، زکا وائرس، کانگو وائرس نے اس سال بھی دنیا بھر اور پاکستان میں کئی افراد کو متاثر کیا تاہم اس حوالے سے اقدامات بھی سامنے آئے جبکہ ایڈز کے مریضوں کی مجموعی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

1

عالمی اداروں کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ دنیا بھر میں نمونیا کی وجہ سے کروڑوں بچے جاں بحق ہوئے جن کی عمر 5 سال سے کم  تھی جبکہ ان میں سے بیشتر کا تعلق افریقی ممالک سے تھا، سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں انگولا، عوامی جمہوریہ کانگو، ایتھوپیا، نائجیریا اور تنرانیہ شامل تھے۔

2

انسانیت کی خدمت کے لیے کوشاں پاکستانی نوجوانوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جو ہر پاکستانی کے زخموں کا مرہم بن گیا، نوجوانوں کی جانب سے اگست 2016 میں اسمارٹ فون کی ایک ایپلی کیشن ’’مرہم‘‘ کے نام سے تیار کی گئی جہاں کسی بھی بیماری کے حوالے سے ماہرین مشورہ دینے کے لیے ہمہ وقت موجود رہتے ہیں۔

3

طبی ماہرین نے جسم کے مطلوبہ مقام پر دوا پہنچانے کے لیے دنیا کی سب سے چھوٹی روبوٹک ’نینو مچھلی‘ تیار کی جو ریت کے ایک ذرے سے بھی 100 گنا چھوٹی ہے۔ نینو مچھلی کے ذریعے غیرضروری چیر پھاڑ کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے جسم کے اندر چند خلیات تک انتہائی درستگی کے ساتھ دوا پہنچانے کے لیے استعمال کیا رہا ہے اور کینسر کے علاج میں یہ بہت مدد گار ہے۔

اس مچھلی کو جست اور سونے کی پنیوں سے تیار کر کے اس میں چاندی کے جوڑ لگائے گئے ہیں۔ سونے کے ذرات پتوار اور دم کا کام کرتے ہیں جس سے مچھلی تیرتی ہے۔ مچھلی کی لمبائی 800 نینو میٹر ہے۔

13

اکتوبر کی 21 تاریخ کو امریکن کالج آف سرجنز نے پاکستان کے مایہ ناز سرجن ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کو ان کی طبی مہارت اور انسانیت کی خدمات کے اعتراف میں اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا، امریکی سائنسی ماہرین نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورو لوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے بانی اور روحِ رواں ڈاکٹر ادیب رضوی کو امریکن کالج آف سرجنز نے اعزازی فیلو شپ دی۔

یاد رہے کہ اعزازی فیلو شپ کسی بھی شخص کی قابلیت کے اعتراف میں دیا جانے والااعلیٰ ترین ایوارڈ ہے جو کسی ادارے کی جانب سے دیا جاسکتا ہے۔

4

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں نومبر 2016ء کو اچانک گرد آلود ہوائیں چلیں جسے اسموگ کا نام دیا گیا، ان گرد آلود ہواؤں کے باعث شہریوں کو آنکھوں اور سینے کی بیماریوں لاحق ہوئیں جس سے بچے بڑی تعداد میں متاثر ہوئے تاہم صوبائی حکومت نے فوری طور اس وبا سے جان چھڑانے کے اقدامات کیے اور خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

5

حکومتِ پنجاب نے ریسکیو 1122 کی پہنچ کو گنجان آباد علاقوں میں یقینی بنانے کے لیے نومبر کے ماہ میں پانچ شہروں میں موٹر سائیکل ایمبولینسیں چلانے کا اعلان کیا، یہ تجربہ پہلے ہی دنیا کے کئی ممالک میں کیا جاچکا ہے۔ حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل ایمبولینسس گوجرانوالہ، فیصل آباد، لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں چلانے کا اعلان کیا گیا۔

6

پنجاب حکومت نے نومبر کے ماہ میں تھلیسیمیا کے مرض کو قابو کرنے کے لیے قانون سازی کا عمل مکمل کیا‘ اس مقصد کے لیے پنجاب تھلیسیمیا پریوینشن ایکٹ 2016ء تیار کیا گیا جس کے تحت شادی سے قبل تھلیسیمیا ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کی تجویز بھی دی گئی۔

7

اس قانون سازی کا مقصد ملک سے تھلیسیمیا کے مرض کا خاتمہ تھا کیونکہ اس وقت ملک میں تقریباً 1 کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں جس میں سے نصف تعداد کا تعلق پنجاب سے ہے اور ہر سال تقریباً 6 ہزار بچوں میں مرض رونما ہوتے ہیں۔

اسلامک یونیورسٹی بہاول پور کے ہونہار طالب علم فائز رضا نے آنکھوں کے ذریعے کنٹرول ہونے والی وہیل چیئر ایجاد کی،یہ وہیل چیئر ہاتھ پاؤں سے معذور افراد کی ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائی گئی جسے آنکھوں کی مدد سے بآسانی چلایا جا سکے گا۔

نابینا اور کلر بلائنڈنیس کا شکار افراد کے لیے مائیکرو سافٹ نے ایسی ایپلی کیشن تیار کی جو رنگوں کے درمیان فرق بتانے اور نابینا افراد کو چیزوں کی پہچان کروانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ خصوصی ایپ بینائی سے محرومیت اور رنگ کی شناخت نہ کرنے کی بیماریوں میں مبتلا افراد کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے مائیکرو سافٹ نے ایک ایسی ایپلی کیشن تیار کی۔

8

سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے ملیر میں رواں سال دسمبر کے آخری عشرے میں اچانک پراسرار بیماری چکن گنیا نمودار ہوئی جس کے باعث سیکڑوں افراد متاثر ہوئے جس کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے ہیلتھ ایمرجنسی لگا دی گئی۔

9

اس بیماری کی تشخیص کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو اس بیماری کی تشخیص کو تلاش کرنے لگی جبکہ وفاقی صحت برائے ایڈوائزری کی جانب سے ایک بیماری کی علامات اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے تمام صوبوں میں چکن گنیا پھیلنے کے پیش نظر خطرات سے آگاہ کیا گیا۔

زیکا وائرس کے مچھر کی افزائش روکنے کے لیے برطانوی سائنس دانوں نے رات دن محنت کر کے اس کے روک تھام کے لیے موڈیفائڈ مچھر فضا میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ برطانوی آکسی ٹیک لیب میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ موڈیفائڈ مچھر زیکا وائرس کے مچھر کی افزائش کو روکنے میں 90 فیصد کامیاب رہا۔

10

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈاکٹروں کو ہدایت کی کہ وہ سال میں کم از کم 12 دن حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے اپنی خدمات فراہم کریں اور ان کا مفت علاج کریں۔ یہ بات نریند مودی نے اپنی دوسری سالگرہ کی تقریب کے موقع پر بھارتی ریاست اتر پردیش کی۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا، ’کیا میرے ڈاکٹر دوست ایک کام کر سکتے ہیں؟ ہر ماہ کی 9 تاریخ کو ان کے پاس جو بھی غریب اور حاملہ عورت آئے، وہ اس کا مفت علاج کریں‘۔

11

برازیل کے شہر ساؤ جوز میں ایک شہری کو عجیب مچھر کے کاٹنے کے بعد مہلک بیماری ہوئی جسے ماہرین کی جانب سے ’’ہاتھی پیر‘‘ کا نام دیا گیا، یہ بیماری ایک مچھر کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور انفکیشن کی صورت میں متاثرہ شخص کا پیر بالکل ہاتھی کے پاؤں کی طرح ہوجاتا ہے۔ اس بیماری میں ابتدائی دنوں میں متاثرہ حصے میں سوجن دیکھنے میں آئی تاہم علاج نہ کروانے والے افراد کے جسم مفلوج بھی ہوئے۔

12

دنیا کے ممتاز ترین ماہر طبیعیات ’اسٹیفن ہاکنگ‘ نے انسان کے دماغ کو سوفیصد تک اہل رکھنے کے لیے سائنسی تاریخ کا بڑا کارنامہ سرانجام دیا، انہوں نے ایک دوا ایجاد کی جو انٹیلی جن کے نام سے ہے، اس کے استعمال سے انسانی دماغ پہلے سے بڑھ کرتیز، صاف اور مرکوز ہوجاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں