site
stats
پاکستان

جمشید دستی پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات نہیں ملے: میڈیکل رپورٹ

ملتان: پنجاب حکومت نے گرفتار رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی میڈیکل رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ میں دستی پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات نہیں ملے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے طبعی معائنے کے لیے مقرر کیے جانے والے 5 رکنی میڈیکل بورڈ نے جیل میں تفصیلی معائنے کے بعد اپنی رپورٹ جاری کردی۔

رپورٹ کے مطابق دستی پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات نہیں ملے جبکہ رکن قومی اسمبلی کی جانب سے تشدد کے باعث عارضہ قلب کی شکایت کو بھی بورڈ نے مسترد کردیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دستی کے دانتوں کی تکلیف بھی تشدد کے باعث نہیں ہے جبکہ جمشید دستی کو قید کے باعث نفسیاتی طور پر مختلف الجھنوں کا شکار قرار دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا کی عدالت میں پیشی کے موقع پر جمشید دستی نے روتے ہوئے صحافیوں کو بتایا تھا کہ کہ پولیس کی حراست میں ان پر شدید تشدد کیا جارہا ہے، وہ 6 دن سے بھوکے ہیں اور انہوں نے کچھ نہیں کھایا۔

اس سے قبل 8 جون کو عوامی راج پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے ہیڈ کالو پر واقع ڈنگا کینال کو زبردستی کھولنے کی کوشش کی جس کے بعد محکمہ آب پاشی نے نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

مزید پڑھیں : رکن قومی اسمبلی جمشید دستی گرفتار

بعد ازاں جمشید دستی کو گرفتار کر کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

جمشید دستی مظفر گڑھ کے حلقہ این اے 178 سے گزشتہ دو انتخابات سے کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔ انہوں نے سنہ 2010 میں بی اے کی جعلی ڈگری کا الزام لگنے پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بعد ازاں عدالتی احکامات کے بعد جمشید دستی نے دوبارہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہو کر اسمبلی تک پہنچے۔ جمشید دستی نے سنہ 2012 میں پیپلز پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کردیا تھا۔


Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top