The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں پولیس مقابلہ: میڈیکل طالبہ سپرد خاک، وزیرِ اعلیٰ سندھ کا نوٹس

کراچی: مبینہ پولیس مقابلے میں فائرنگ کی زد میں آنی والے میڈیکل کی طالبہ نمرہ کو سپردِ خاک کر دیا گیا، وزیرِ اعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکوؤں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں رکشے میں بیٹھی نمرہ بیگ کو گولی لگی تھی، مگر اسے بر وقت طبی امداد مہیا نہیں کی جا سکی، دوسری طرف اسپتال انتظامیہ نے بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، اور یوں نمرہ نے دم توڑ دیا۔

طالبہ کے قتل کی تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی۔

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کیا، انھوں نے اس قسم کے واقعات کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تفصیلی رپورٹ چاہیے کہ واقعہ کس کی غفلت کا نتیجہ ہے۔

دریں اثنا، مقتولہ نمرہ بنتِ اعجاز بیگ کی نمازِ جنازہ ان کی رہائش گاہ انڈا موڑ کے قریب جامع مسجد صدیق اکبر میں ادا کی گئی۔

جنازے میں اہلِ خانہ سمیت علاقے کے سیکڑوں افراد نے شرکت کی، ایس ایس پی وسطی عارف اسلم اور ایم کیو ایم پاکستان کے ریحان ہاشمی بھی جنازے میں شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی: میڈیکل کی طالبہ کی ہلاکت، معمہ حل نہ ہوسکا، واقعہ کئی سوالات چھوڑ گیا

تفتیشی ذرایع کا کہنا ہے کہ نمرہ کو عباسی شہید اسپتال میں آدھے گھنٹے کے بعد بھی طبی امداد نہیں دی گئی، اسپتال انتظامیہ نے آدھے گھنٹے بعد نمرہ کو جناح اسپتال ریفر کیا، نمرہ کو طبی امداد کی فراہمی میں 2 گھنٹے ضائع ہوئے، ذرایع کے مطابق نمرہ کو گولی لگنے سے سر پر زخم آیا تھا، بر وقت طبی امداد ملنے پر زندگی بچائی جا سکتی تھی۔

طالبہ کے قتل کی تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، ٹیم نے جائے وقوع کا دورہ کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں