The news is by your side.

Advertisement

بالی وڈ کی باکمال اداکارہ کی ایک غزل!

مینا کماری کو ملکۂ غم کہا جاتا ہے جس کا سبب فلموں میں نبھائے گئے ان کے وہ المیہ اور حزنیہ کردار ہیں‌ جو ان کے کمالِ فن کی یادگار ہیں۔ مہ جبین ان کا اصل نام تھا، لیکن فلم انڈسٹری اور اپنے لاکھوں پرستاروں میں مینا کماری کے نام سے مشہور ہوئیں۔

اس اداکارہ کی ذاتی زندگی بھی رنج و غم اور دکھوں سے بھری پڑی تھی۔ وہ ازدواجی سفر میں‌ ناکامی کے بعد کئی پریشانیوں اور ذہنی الجھنوں‌ کا شکار رہیں جو 1972ء میں ان کے موت کے ساتھ ہی تمام ہوسکیں۔

قدرت نے ماہ جبین کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ باکمال اداکارہ تو تھی ہیں، ان کی آواز بھی بہت دل نشیں تھیں، لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں‌ کہ وہ شاعرہ بھی تھیں۔ مینا کماری کا تخلّص ناز تھا۔ آج ان کی برسی منائی جارہی ہے۔ یہاں‌ ہم چار دہائی قبل دنیا سے ناتا توڑ لینے والی مینا کماری کی ایک غزل پیش کررہے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔

عیادت ہوتی جاتی ہے، عبادت ہوتی جاتی ہے
مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دَم
ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

یہ کیسی یاس ہے، رونے کی بھی اور مسکرانے کی
یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے

کبھی تو خوب صورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
کسی غم خانہ سے گویا محبّت ہوتی جاتی ہے

خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں