The news is by your side.

Advertisement

ایک بڑا شاعر جسے دنیا محبوبہ کے نام سے جانتی ہے

صاحبان علم کہتے ہیں کہ اردو ادب میں تین شخصیات کا کردار غیر معمولی ہے ۔ تینوں کا اسلوب اور ادبی مہمات عام ڈگر سے ہٹ کر ہیں ۔ انھوں نے معاشرتی اور اخلاقی رسوم سے بغاوت کی ۔ ان کرداروں کی وجہ سے آج اردو ادب زرخیز ہے اور اس کا دامن وسیع تر ہے ۔ ان شخصیات میں مرزا غالب ، سعادت حسن منٹو اور میرا جی شامل ہیں ۔ غالب اور منٹوکو تو قارئین سالہا سال سے خراج تحسین پیش کرتے آ رہے ہیں تاہم میرا جی ایک ایسے شاعر تھے جو اپنے قارئین کو تو خاطر خواہ متاثر نہ کر سکے تاہم انھوں نے اپنے بعد لکھے جانے والی شاعری پر گہرا اثر چھوڑا ۔

آزاد نظم اور علامتی شاعری کو اردو ادب میں فروغ دینے والوں میں میرا جی کا نام سرفہرست ہے ۔ آج کا مضمون میرا جی کی زندگی کے ایسے واقعہ کے متعلق ہے جس نے انھیں پوری دنیا میں میرا جی کے نام سے مشہور کر دیا ۔ میرا جی 1912 میں پیدا ہوئے اور جواں عمری میں 1949 میں محض 37 برس کی عمر میں انتقال ہوگئے ۔ میرا جی کا اصل نام ثنااللہ ڈار تھا ۔ نوجوانی میں لاہور میں انھیں ایک بنگالی لڑکی میرا سین سے عشق ہو گیا مگر وہ کبھی اس سے اظہار محبت کر نہ سکے ۔

میرا سین لاہور کے جین مندر کے قریب واقع عمارت میں رہائش پزیر تھی اورایف سی کالج میں پڑھتی تھی ۔ ثنااللہ ڈار نے اس لڑکی کو ایک دن راستے میں روک کر صرف اتنا کہا کہ وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا مگر وہ لڑکی نظر انداز کر کے اآگے بڑھ گئی ۔ میرا جی لڑکی سے اظہار محبت تو نہ کر سکے مگر وہ اس کے گھر کے سامنے یونیورسٹی گراونڈ میں سارا دن بیٹھ کر اس کی بالکنی کو دیکھتے رہتے جس میں الگنی پر میرا سین اپنی رنگ برنگی ساڑھیاں سکھانے کے لیے ڈالتی ۔

کچھ عرصہ بعد میرا سین واپس کلکتہ چلی گئی مگر میرا جی اسی گراونڈ میں بیٹھ کر خالی بالکتی کو تکتے رہ گئے ۔میرا جی کےناآسودہ عشق کی گواہ وہ عمارت آج بھی مخدوش حالت میں جین مندر میں موجود ہے ۔ میرا سین تو رخصت ہو گئی مگر یہیں سے ثنااللہ ڈار سے میرا جی کا سفر شروع ہوا ۔ میراسین کا امیج میراجی کے لیے ایک تخلیقی تجربہ بن گیا۔

وہ عمر بھراس امیج کے حصار میں رہے .ثناءاللہ ڈار نے سب سے پہلے اپنا نام بدلا ، گھر بار چھوڑا اور تمام عمر دربدر بھٹکتا رہا ۔ میرا سین کے جانے کے بعد میرا جی نے شعر و ادب سے رشتہ جوڑ لیا اور ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا ۔ 1938 سے1941 تک وہ ادبی دنیا سے وابستہ رہے جس کے بعد لاہور میں اآل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہو گئے ۔

بعد میں ان کا تبادلہ دلی کر دیا گیا ۔ 1945 میں وہ بمبئی چلے گئے مگر وہاں کام نہ ملا ۔ وہ پونا بھی گئے مگر حالات بہتر نہ ہو سکے ۔ اس موقع پر اخترالایمان نے مدد کی اوراپنے رسالے خیال کی ادارت انھیں سونپ دی ۔ میرا جی بہت سی بری عادتوں میں بھی مبتلا تھے جن میں کثرت شراب نوشی اور طوائقوں کے پاس جانا جیسے ان کی ذات کا حصہ تھا وہ عجیب و غریب حلیہ بنا کر رکھتے کبھی سر منڈوا لیتے اور کبھی لمبی زلفیں رکھ لیتے جنھیں شاید کبھی کبھار بی وہ دھونے کی زحمت گوارا کرتے ۔ وہ ہمیشہ میلے کچیلے کپڑوں میں پھرتے , گلے میں مالا اور ہاتھ میں تین گولے ہوتے جن پر سگریٹ کی پنیاں چڑھی ہوتیں ۔

غرض میرا جی ہیت کذائی اورغلیظ عادات نے ان کی ذات کو عوام کے لیے افسانہ بنا دیا ان کی شخصیت ہی ہمیشہ قاری اور ان کی شاعری کے درمیان رکاوٹ بنی رہی ۔ نشے اور دیگر غلط کاریوں نے میرا جی کی صحت کو بری طرح متاثر کیا اور بالآخر وہ 1949 میں بمبئی کے ایک خیراتی ادارے میں کسپمبرسی کے عالم میں انتقال کر گئے ۔

میرا جی

ان کے جنازے میں فقط پانچ لوگ ہی شریک ہوئے ۔ ممکن ہے یہ ہیت کذائی ، شراب نوشی اور دیگر غلط عادات کی وجہ ان کا ناکام عشق ہی بنا ہوا ۔ میرا جی نے ایک عورت کی خاطر سب کچھ چھوڑ دیا اس کے نام کا چوغہ پہن لیا ۔ لوگ اس کا اصل نام بھول گۓاور اسے میرا سین کا عاشق میرا جی کہتے تھے ۔ اس دور میں اختر شیرانی اور سلمی کا قصہ بھی مشہور تھا مگر اختر شیرانی جنوں کی اس حد تک نہیں پہنچا تھا جو میرا جی کی معراج تھا ۔ میرا جی ایک جنونی تھا جس نے ایک عام سی بنگالن لڑکی کے لیے اپنا آپ برباد کر دیا اور شاید میرا سین کو اس کی خبر تک نہ تھی ۔

وہ خود تو واپس چلی گٸی مگر میرا جی کو لاہور ، دلی اور بمبٸی کی سڑکوں پر دربدر چھوڑ گٸی ۔ میرا سین اور جین مندر میں واقع گھر کے حوالے سے محمد حسین اآزاد کے پوتے اور معروف مصنف و شاعر اآغا سلمان باقر نے ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ تقسیم کے بعد میرا سین کا گھر مقبول احمد جعفری کوالاٹ ہوا جو جعفریہ کالونی کے سیکرٹری کوآپریٹوبھی رہے ۔ ایک دن جعفری صاحب نے انھیں بتایا کہ یہ گھر میرا جی کی محبوبہ میرا سین کا ہے ۔ انھوں نے ایک ساڑھی اور خوبصورت سی لڑکی کی تصویر بھی دکھائی کہ یہ میرا سین اور اس کی ساڑھی ہے جو یہاں الماری کے نچلے حصے میں پڑی رہ گئی ۔

آغا سلمان باقر کے مطابق وہ لڑکی انتہائی خوبصورت تھی جس کے لیے میرا جی اپنے جنون میں حق بجانب تھے ۔ یہ بات ادبی حلقوں میں خاصے عرصہ تک موضوع گفتگو رہی ۔ ڈاکٹر تبسم کاشمیری نے اس تصویر اور ساڑھی کے میرا سین سے کسی بھی تعلق کو رد کر دیا ان کا کہنا تھا کہ میرا سین کا خاندان 1940 کے اآس پاس لاہور چھوڑ گیا تھا-

1946 میں قیوم نظر کو دلی سے لکھے گئے۔ خط میں میرا جی نے لکھا کہ پرسوں بیس مارچ تھی اور میرا سین کی ملازمت میں چودہ سال گزر گئے ۔ لہذا تقسیم ہند تک ساڑھی یا تصویر کا اس جگہ پر موجود رہنا ممکن نہیں یہ لڑکی کوئی اور ہو گی میرا سین نہیں ۔ ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میرا جی نے یہ سارا ڈھونگ رچایا تھا تاکہ ان کے جنونی عشق کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا رہے ۔ حسن عسکری کہتے ہیں کہ ایک دن ایک بنگالی لڑکی راستے سے گزر رہی تھی جسے دیکھ کر اس کے دوستوں نے چھیڑا کہ یہ ثناءاللہ ڈار کی محبوبہ میرا سین ہے ۔

میرا جی اس بات پر دکھاوے کے لیے چڑتے رہے تاکہ دوست اس معاملے کو مزید اچھالیں اور یوں ایک بے بنیاد افسانے کو وہ ساری زندگی نبھاتے رہے اور اپنے ناآسودہ عشق کی تشہیر کے لیے انہوں نے زندگی گزارنے کا یہ انداز چنا ۔

اخترالایمان نے بھی رشید امجد کو اپنے ایک خط میں میرا جی کے عشق کے متعلق لکھا کہ میرا جی کے اس سے عشق کو زیادہ اہمیت نہ دیں ایسی کئی لڑکیاں تھیں ۔ انیس ناگی کہتے ہیں کہ میرا سین سے اتنی طویل خیالی رفاقت اور جذباتی وابستگی محض دکھاوا نہیں ہو سکتی ۔یہ ایک والہانہ پن تھا ایسی دیوانگی تھی جو اس کی شاعری میں ٰبھرپور طریقے سے نمایاں ہوٸی اور یہ میرا جی کی شخصیت کا آدرشی پہلو تھا جسے انھوں نے برقرار رکھا ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں