اردو شاعری میں خاص طور پر نظم کی صنف میں جدّت اور بہ لحاظِ ہیئت و انفرادیت میرا جی نے بڑا امتیاز اور شہرت پائی۔ وہ اردو ادب میں جدید دور کے نظم نگار کی حیثیت سے تو آج بھی زیرِ بحث آتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ سات ان کی بعض شخصی کمزوریوں اور عجیب و غریب عادات کو بھی میرا جی کے دور کے کئی ادیبوں اور شعرا نے اپنی تحریروں کا حصّہ بنایا ہے۔
میرا جی کا نام ثناء اللہ ڈار تھا۔ ان کے والد منشی مہتاب الدین ریلوے انجینئر تھے۔ ملازمت کی وجہ سے مختلف جگہوں پر قیام رہا۔ میرا جی کی تعلیم بھی مختلف مقامات پر ہوئی اور ادھوری رہی۔ شعر گوئی کا شوق بچپن سے تھا۔ پہلے سامری تخلص کرتے تھے۔ لاہور کے قیام کے دوران ان کی زندگی ایک انقلاب سے دوچار ہوئی۔ میرا سین نامی ایک لڑکی سے عشق نے انھیں میرا جی بنا دیا۔
کہتے ہیں کہ میرا جی کی زندگی نفسیاتی الجھنوں کا شکار رہی۔ وہ سماج کی مروجہ اقدار سے منحرف تھے۔ اردو شاعری میں ایک نئی روایت قائم کی اور انفرادیت کے ساتھ اپنے خیالات کو نظموں میں سمویا۔ تحلیلِ نفسی سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ ہندی فلسفے، اساطیر اور موسیقی سے بھی متاثر تھے۔ دنیا بھر کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ میرا جی کی اہمیت ایک خاص طرز احساس کے علاوہ ہیئتی تجربات ہیں۔ میرا جی کی شاعری کا ایک پہلو وہ بھی ہے جسے اشاریت اور ابہام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نظموں اور غزلوں کے علاوہ میراجی کے گیت اور تراجم کے علاوہ ان کی تنقیدی تحریریں بھی اہمیت کی حامل ہیں۔
میرا جی کی مروجّہ سماجی اقدار سے بیزاری اور روایت سے انحراف کے باوجود ان کی فنی عظمت کا اعتراف بھی کیا جاتا ہے، اور ان کو اردو نظم کو تنوع اور نئی وسعتوں سے آشنا کرنے والا شاعر کہا جاتا ہے۔ بحیثیت ایک شخص ان کے بارے میں ایک خیال یہ تھا کہ وہ آوارہ اور ذہنی عیّاش تھے۔ یہی نہیں بلکہ کچھ ایسی قبیح عادات میں مبتلا رہے جن کی وجہ سے اکثر اہل قلم ان سے دور رہنا پسند کرتے تھے۔ میرا جی کو جنسی مریض سمجھا گیا اور ایسے شخص کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو جسمانی صفائی ستھرائی کا خیال بھی نہیں رکھتے تھے۔ 3 نومبر 1949ء کو میرا جی ممبئی کے اسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔
زندگی کی صرف 38 بہاریں دیکھنے والے میرا جی 25 مئی 1912ء کو پیدا ہوئے۔ یہ کنبہ لاہور منتقل ہوا تو وہاں میرا سین نامی بنگالی لڑکی کے عشق میں ناکامی کے بعد میرا جی نے محبّت اور ہوس میں کوئی تمیز نہ کی اور خوب رسوائیاں اپنے نام کیں۔ میرا جی نے اپنا حلیہ ایسا بنا لیا تھا کہ نفیس طبیعت پر بڑا گراں گزرتا۔ بڑھے ہوئے گندے بالوں کے علاوہ ان کے لمبے ناخن میل کچیل سے بھرے رہتے اور لباس کا بھی یہی معاملہ تھا۔
علم و ادب کی دنیا سے میرا جی کا تعلق مطالعہ کے شوق کے سبب قائم ہوا تھا۔ میرا جی مغربی ادب کے ذہین اور مشّاق قاری تھے۔ انھوں نے جب اپنی طبیعت کو موزوں پایا تو شاعری کا آغاز کیا اور پھر ادبی دنیا سے وابستگی کے بعد تبصرے، تاثراتی اور تنقیدی مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا، ساتھ ہی غیرملکی ادیبوں کی تخلیقات کا اردو ترجمہ بھی کرنے لگے۔ انھوں نے عمر خیام کی رباعیات کو بڑے سلیقے سے ہندوستانی چولا پہنایا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستانی برطانیہ سے آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ اس دوران برّصغیر کے جملہ طبقات اور ہر شعبے میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی تھیں اور اردو ادب بھی نئے رجحانات اور ترقی پسند تحریک سے متاثر ہو رہا تھا۔ اسی دور میں میرا جی نے حلقۂ اربابِ ذوق میں دل چسپی لینا شروع کی اور آگے چل کر جدید نظم کے بانیوں میں ان کا شمار ہوا۔ ظفر سیّد نے بی بی سی پر اپنی ایک تحریر میں میرا جی کے لیے لکھا تھا، وہ نام جس نے اردو میں جدیدیت کی داغ بیل ڈالی۔ جس نے کہنہ روایات کی برف کو توڑ کر راستا بنایا، جس نے جدید شاعروں کی ایک نسل کی آبیاری کی۔
ڈاکٹر انور سدید میرا جی کے بارے میں لکھتے ہیں، اربابِ ذوق کو میرا جی کی ذات میں وہ شخصیت میسر آگئی جو بکھرے ہوئے اجزا کو مجتمع کرنے اور انھیں ایک مخصوص جہت میں گام زن کرنے کا سلیقہ رکھتی تھی۔ میراجی ذہنی اعتبار سے مغرب کے جدید علوم کی طرف راغب تھے لیکن ان کی فکری جڑیں قدیم ہندوستان میں پیوست تھیں۔ مشرق اور مغرب کے اس دل چسپ امتزاج نے ان کی شخصیت کے گرد ایک پراسرار جال سا بُن دیا تھا۔ چنانچہ ان کے قریب آنے والا ان کے سحر مطالعہ میں گرفتار ہوجاتا اور پھر ساری عمر اس سے نکلنے کی راہ نہ پاتا۔ دور سے دیکھنے والے ان کی ظاہری ہیئت کذائی، بے ترتیبی اور آزادہ روی پر حیرت زدہ ہوتے اور پھر ہمیشہ حیرت زدہ رہتے۔ وہ مزید لکھتے ہیں، میرا جی کی عظمت کا ایک باعث یہ بھی تھا کہ وہ حلقے کے ارکان میں عمر کے لحاظ سے سب سے بڑے تھے۔ ان کا ادبی ذوق پختہ اور مطالعہ وسیع تھا اور حلقے میں آنے سے پہلے وہ والٹ وٹمن، بودلیئر، میلارمے، لارنس، چنڈی داس، ودیاپتی اورامارو وغیرہ کے مطالعے کے بعد ادبی دنیا میں ان شعرا پر تنقیدی مضامین کا سلسلہ شروع کرچکے تھے۔
1941ء میں میرا جی کو ریڈیو اسٹیشن لاہور میں ملازمت مل گئی۔ اس کے اگلے سال ان کا تبادلہ دہلی ریڈیو اسٹیشن پر ہو گیا۔ اسی دوران انھوں نے فلموں میں قسمت آزمانا چاہی، لیکن ناکام رہے اور بعد میں اختر الایمان نے انھیں اپنے رسالے خیال کی ادارت سونپ دی۔ نظموں اور غزلوں کے علاوہ میرا جی نے فلمی گیت نگاری بھی کی۔ ان کی چند کتابوں کے نام یہ ہیں: ”مشرق و مغرب کے نغمے“ ، ”اس نظم میں “، ”نگار خانہ“، ”خیمے کے آس پاس“ جب کہ شعری مجموعوں میں میرا جی کی نظمیں، گیت ہی گیت، پابند نظمیں اور تین رنگ شامل ہیں۔
اردو کے ممتاز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے میرا جی کے بارے میں لکھا تھا، بحیثیت انسان کے وہ بڑا دل چسپ تھا۔ پرلے درجے کا مخلص، جس کو اپنی اس قریب قریب نایاب صفت کا مطلقاً احساس نہیں تھا۔ میرا جی نے شاعری کی، بڑے خلوص کے ساتھ، شراب پی بڑے خلوص کے ساتھ، بھنگ پی، وہ بھی بڑے خلوص کے ساتھ، لوگوں سے دوستی کی، اور اسے نبھایا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


