The news is by your side.

Advertisement

شامی مہاجرین انسانی اعضاء کے سوداگر کا شکاربن گئے

لبنان میں شامی مہاجرین کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور یہی مجبوری انہیں اپنے جسمانی اعضاء بیچنے پر مجبور کررہی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے اپنے آن لائن میگزین میں ایک ایسے شخص کا انٹرویو شائع کیا ہے جو کہ انسانی اعضاء کی اسمگلنگ کے اس مکروہ دھندے میں براہ راست ملوث ہے اوراب تک تیس سے زائد افراد کے اعضاء فروخت کراچکا ہے۔

 بیروت سے تعلق رکھنے والا یہ  شخص جس کا فرضی نام ابوجعفر لکھا گیا ہے‘ اس کا کہنا ہے کہ پہلے وہ ایک پب میں بحیثیت سیکیورٹی گارڈ کام کیا کرتا تھا تاہم اب تین سال سے وہ انسانی اعضاء عطیہ کرنے کے لیے شام سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کا شکار کرتا ہے۔

انسانی اعضاء کے رہائش گاہ کے باہر کا منظر – بشکریہ بی بی سی

اس کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت نے مہاجرین کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی ہےجس کے سبب وہ مہاجر کیمپوں میں اقوام متحدہ سے ملنے والی انتہائی قلیل رقم کے ساتھ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

افسوسناک انکشاف جو کیا گیا وہ یہ تھا کہ ان مہاجرین میں سب سے زیادہ آسانی سے فلسطینی شکار ہوتے ہیں جو پہلے ہی شام میں مہاجرت کی زندگی بسر کررہے تھے اور شام میں جنگ کے بعد ایک بار پھروہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

انسانی اعضاء کے اس شکاری کا کہنا تھا کہ اسے اس کام پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور اسے قانون کا کوئی خوف بھی نہیں ہے بلکہ وہ تو( اپنےخیال میں) ان لوگوں کی مدد کررہا ہے ‘ اعضاء کے بدلے ملنے والی رقم سے وہ لوگ کوئی گاڑی خرید کر ٹیکسی چلاسکتے ہیں‘ کسی اور ملک جاسکتے ہیں۔ الغرض ایک نئی زندگی شروع کرسکتے ہیں

انسانی اعضا کا سوداگر ہر وقت مسلح رہتا ہے- بشکریہ بی بی سی

انسانی اعضاء کتنے کے بکتے ہیں؟


 بی بی سی کے نامہ نگار کو ابو جعفر نےیہ نہیں بتایا کہ وہ ان اعضاء کی کتنی قیمت وصول کرتا ہے تاہم اس کا کہنا تھا کہ اعضاء کے بدلے آٹھ ہزارامریکی

ڈالرتک کی رقم دی گئی ہے۔

 نامہ نگار کو اس نے یہ بھی بتایا کہ زیادہ تر ڈیمانڈ گردے کی ہوتی ہے تاہم اس نے مہاجرین کو آنکھ فروخت کرنے پر بھی راضی کیا ہے اور رقم کے عوض لوگوں نے اپنی ایک آنکھ بیچ دی ہے۔

شام سے لبنان آنے والے درحقیقت اس قدر اتنی مصیبتیں اور مشکلات اٹھا کر آرہے ہوتے ہیں کہ ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے کے لیے اپنے اعضا فروخت کرنا انہیں کوئی مہنگا سودا نہیں لگتا۔ ان کے خیال میں وہ جنگ کے دوران مفت میں بھی مارے جاسکتے تھے تو اگران کے کسی جسمانی اعضا کی قیمت مل رہی ہے تو وہ انہی قبول کرلینی چاہئے۔

آخری شکار 17 سالہ نوجوان تھا


انٹرویو کے دوران یہ بھی آشکار کیا کہ اس کا سب سے آخری شکارایک 17 سالہ لڑکا تھا جس کا باپ اور بھائی شام کی جنگ میں مارے گئے اور وہ اپنی ماں اورپانچ بہنوں کے ساتھ مہاجرین کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ ابوجعفر نے بتایا کہ آپریشن کے بعد وہ ایک ہفتے تک ڈونر کو اپنے پاس رکھتا ہے کہ جب تک اس کے ٹانکے نا کھل جائیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ درد کش ادوایات دینے کے باوجود یہ لڑکا دو دن تک تکیلف سے بے حال رہا۔

گردہ فروخت کرنے والے مریض کی تصویر – بشکریہ بی بی سی

 سفاک سوداگر نے اعتراف کیا کہ اسے کوئی پرواہ نہیں اگر کوئی شخص اس دوران مربھی جائےتو کیونکہ انہوں نے اس کی قیمت وصول کی ہوتی ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ یہ آپریشن عموماً کرائے پر لیے گھروں میں قائم عارضی آپریشن تھیٹروں میں کیے جاتے ہیں (جہاں اعضاء فروخت کرنے والے کی حالت نازک ہونے کی صورت میں اسے کسی بھی قسم کی طبی امداد دیے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا)۔

ابو جعفر ہرلمحہ مسلح رہتا ہے اوراس کے محلے کے لوگ جانتے ہیں کہ وہ کیا کام کرتا ہے ‘ اس کے بارے میں وہاں کے لوگوں کے ملے جلے جذبات ہیں‘ کچھ کے نزدیک وہ ایک خطرناک شخص ہے اور کچھ اس کی ہنس مکھ شخصیت سے متاثر بھی ہیں۔


یہ انٹرویو بنیادی طور پر بی بی سی میں شائع ہوا تھا جہاں سے اسے معلوماتِ عامہ کے فروغ کے لیے یہاں ترجمہ کرکے شائع کیا گیا ہے

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں