The news is by your side.

Advertisement

58 عراقی فوجیوں کی زندگی بچانے والی بہادر خاتون

دبئی: عراق میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بہادر خاتون ام اقصیٰ نے شدت پسند گروپ داعش کے جنگجوؤں کے حملوں سے 58 عراقی فوجیوں کی زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تفصیلات کے مطابق حال ہی میں امریکی حکومت نے دنیا بھر میں بہادری کی لازوال داستانیں رقم کرنے والی خواتین کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، ان میں عراقی بہادر خاتون ام اقصیٰ کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔

داعش کے جنگجوؤں نے جون 2014ء میں یکے بعد دیگرے عراقی فوجیوں کو قتل کرنا شروع کیا اور 1700 فوجیوں کو قتل کردیا، داعش نے جب علاقے پر حملہ کیا تو فوجی اپنی جانیں بچانے کے لیے دریا میں کود گئے۔

ام اقصیٰ نے جب دیکھا کہ عراقی فوجیوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں تو انہوں نے اپنا اور کئی عزیز و اقارب کے گھر فوجیوں کی مدد کے لیے کھول دئیے اور انہیں چھوٹے چھوٹے گروپس کی شکل میں مختلف جگہوں پر چھپا دیا گیا۔

62 سالہ ام اقصیٰ نے مشرقی تکریت میں اپنے گھر میں 25 عراقی فوجیوں کو چھپایا اور دیگر کو دوسرے گھروں میں رکھا گیا، بعدازاں ان کو بہ حفاظت ان کے گھروں پر پہنچانے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

جب ام اقصیٰ کی خبر سامنے آئی تو اسے تکریت کی بہادر ماں کا خطاب دیا گیا، امریکی وزارت خارجہ نے بھی انہیں دنیا کی 10 بہادر خواتین میں شامل کیا اور انہیں امریکا میں منعقد خصوصی تقریب میں مدعو کیا، ام اقصیٰ کے علاوہ دیگر ملکوں کی 9 خواتین کو بھی دعوت دی گئی تھی۔

ام اقصیٰ کا عراقی شہریوں کے لیے اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ امریکا میں ملنے والا بہادر خاتون کا لقب پوری عراقی قوم کے لیے ہے، امریکا میں ملنے والے اعزاز کو پوری قوم کے لیے ہدیہ کرتی ہوں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں