The news is by your side.

Advertisement

محبوبہ مفتی نے ‘مودی حکومت’ کو خبردار کردیا

نئی دہلی:مقبوضہ وادی کشمیر کے نوجوانوں کو بے روزگار کرنے اور جہانگیر پوری فسادات پر سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سری نگر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مسلم اقلیتی فرقے کے گھروں اور روزگار کو برباد کیا جا رہا ہے، جبکہ ہمارے وزیراعظم کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے کروڑوں مسلمان سہمے ہوئے ہیں اور جموں وکشمیر کے نوجوانوں کے مستقبل کا بھی بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، جموں وکشمیر کی بجلی سے ملک بھر کے کارخانے چلتے ہیں لیکن ہم خود ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں بھی اندھیرے میں ہیں۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے روزگار اور کاروبار باہر کے لوگوں کو دیئے جا رہے ہیں، یہاں بے روزگاری کا گراف بڑھ گیا ہے، جموں وکشمیر پس رہا ہے اور واجپائی جی کا بات چیت کا طریقہ کار کہیں نظر نہیں آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیر اعظم مودی جموں پہنچ گئے، مقبوضہ کشمیر چھاؤنی میں تبدیل

محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی کو پچاس فیصد کم کر دیا گیا ہے تاکہ یہاں کے نوجوانوں کو تل دھرنے کے لئے بھی زمین نہ مل سکے، جموں کا نوجوان روزگار کے لئے سڑکوں پر آتا ہے لیکن کشمیر کا نوجوان باہر نہیں نکل سکتا ہے کہ کہیں یو اے پی اے نہ لگ جائے۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں ایک جانب نئی پارٹیوں کی تشکیل جاری ہے تو دوسری جانب مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کو بلڈوز کیا جا رہا ہے اور یہاں سیاسی عمل مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے سیکورٹی کے نام پر کہیں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں