The news is by your side.

Advertisement

عورت جو بے فوج سلطنت کی مالک ہے!

عورت کیا ہے؟ وہ دنیا میں کیوں آئی؟ اس کی ہستی کی علتِ غائی یعنی اس کا موضوعِ اصلی کیا ہے؟

یہ اور اس قسم کے بہتیرے سوالات ہیں جو ایک شائستہ دماغ کو متوجہ کر سکتے ہیں اور جن پر ہر زمانہ میں کچھ نہ کچھ غور ہوا ہے، لیکن ان سب کا مختصر، مگر جامع جواب یہ ہے کہ ’’وہ محبت کی چیز ہے اور دنیا میں محض اسی لیے آئی۔‘‘

عورت باعتبارِ جذبات ایک خوب صورت گلدستہ ہے جس کی ساخت میں نہایت نازک پھول پتیاں صرف ہوئی ہوں۔ جس طرح پھول کی پتیوں میں نازک رگیں، نسیں اور باریک نقش و نگار ہوتے ہیں، عورت کا دل و دماغ بھی ہر طرح کی لطافتوں اور نزاکتوں کا مخزن ہوتا ہے جس کے بیل بوٹے قدرت کی بہترین نقاشی ہیں۔ ان ہی باریک حسیات اور جذبات کا ابھارنا، اور ان کے نشو و ارتقائے تدریجی کے سلسلہ کو قائم رکھنا، چاہنے والے کا اصلی فرض ہے۔

عورت ہماری زندگی کے ہر صیغہ کو مَس کرنا چاہتی ہے۔ وہ ہماری عقلی اور اخلاقی قوتوں کو حرکت میں لاتی ہے لیکن ایک شائستہ عورت پر وہی قابو حاصل کر سکتا ہے جس میں عورت کے فطری اوصاف کے مقابلہ کی قابلیت موجود ہے۔ جس کے قوی تر جذبات عورت کی قدرتی نزاکتوں اور لطافتوں سے ہم آغوش ہوسکیں۔ اس (عورت) کے خیال میں صرف آرزوئے ’وصل‘ جس پر ہمارے شعرا سَر دھنتے ہیں، نری حیوانیت ہے۔ وہ ’خوش عیشی‘ کے مقابلہ میں ’فلسفۂ ناکامی‘ میں کہیں زیادہ لذّت پاتی ہے جو اس کے نازک سے نازک جذبات اور حسیات کو تحریک میں لائے۔ عورت کی ایک آہ جو دل سے نکلی ہو، ہزار صوفیانہ ریاض و اعمال پر بھاری ہے جس میں شائبۂ خلوص نہ ہو۔

یہ دنیا میں فطرت کی تکمیل کے لیے آئی اور اسی لیے مہذب دنیا میں اسے انسان کا ’نصف بہتر‘ کہتے ہیں۔ محبّت، دل سوزی، خلوص و ہمدردی اس کا خاصۂ فطری ہے، یہ جہاں ہماری خوش دلی کو بڑھاتی ہے، رنج و غم کو بانٹ لیتی ہے۔ صحت میں یہ رفیقِ زندگی، علالت میں خوش سلیقہ دایہ اور موت کے بعد ہماری خوب صورت سوگوار ہے جس کی ہیرا تراش کلائی میں پھنسی ہوئی سیاہ چوڑیاں اور کھلے ہوئے لمبے بال وہ علاماتِ ماتم ہیں جنہیں جیتے جی دیکھنے کو دل چاہتا ہے۔

آہ عورت! تو فسانۂ زندگی ہے۔ تُو جس طرح ایک جھونپڑے کو اپنی صاف شفاف ہستی سے شیش محل بنا سکتی ہے، بڑے سے بڑے ایوانِ عیش کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تیری موجودگی کے آثار اس میں نہ پائے جائیں۔ اس کے لیے چھڑوں کی جھنکار ضروری نہیں، محض تیرا پسِ پردہ ہونا کہیں، کسی کے لیے ہو، کافی ہے۔ شیکسپیئر نے سچ کہا ہے کہ ’’تو مجسم عشوہ گری ہے اور دنیا میں بے فوج کی سلطنت تیرا اور صرف تیرا حصّہ ہے۔‘‘

(اردو کے معروف ادیب اور انشائیہ نگار مہدی افادی کے مضمون فلسفۂ حسن و عشق سے اقتباسات)

Comments

یہ بھی پڑھیں