The news is by your side.

Advertisement

آج شہنشاہ غزل مہدی حسن خان کا چوتھا یومِ وفات ہے

کراچی : شہنشاہ غزل مہدی حسن کو ہم سے بچھڑے آج چار برس بیت گئے ، مگر اُن کا فن آج بھی زندہ ہے، برصغیر پاک و ہند میں مہدی حسن کا نام اور ان کی آواز کسی تعارف کی محتاج نہیں۔

مہدی حسن کی گائیگی بھارت اور پاکستان میں یکساں مقبول ہے۔ مہدی حسن ایک سادہ طبیعت انسان تھے اور بعض اوقات بات سیدھی منہ پر کردیا کرتے تھے ۔

فلمی موسیقی کے زرخیز دور میں مہدی حسن کو احمد رشدی کے بعد دوسرے پسندیدہ گلوکار کا درجہ حاصل رہا۔ مہدی حسن 1927ء میں راجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اور چچا دُھرپد گائیکی کے ماہر تھے اور مہدی حسن کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی۔

خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے موسیقی کی تربیت اپنے والد استاد عظیم خان اور اپنے چچا استاد اسماعیل خان سے حاصل کی، جو کلاسیکل موسیقار تھے۔

مہدی حسن نے کلاسیکی موسیقی میں اپنے آپ کو متعارف کروایا، جب آٹھ سال کے تھے۔اور پچپن سے ہی گلوکاری کے اسرار و رموُز سے آشنا ہیں مگر اس سفر کا باقاعدہ آغاز 1952ء میں ریڈیو پاکستان کے کراچی اسٹوڈیو سے ہوا اس وقت سے لے کرآج تک وہ پچیس ہزار سے زیادہ فلمی غیر فلمی گیت اور غزلیں گا چکے ہیں۔

سن انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ان کا شمار عوام کے پسندیدہ ترین فلمی گلوکاروں میں ہوتا تھا۔اور سنتوش کمار، درپن، وحید مراد اور محمد علی سے لیکر ندیم اور شاہد تک ہر ہیرو نے مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں پر لب ہلائے۔

مہدی حسن نے کل 441 فلموں کے لیے گانے گائے اور گیتوں کی تعداد 626 ہے ۔ فلموں میں سے اردو فلموں کی تعداد 366 جن میں 541 گیت گائے۔ جب کہ 74 پنجابی فلموں میں 82 گیت گائے ۔

انہوں نے 1962 سے 1989 تک 28 تک مسلسل فلموں کے لیے گائیکی کی تھی ۔ ان کی پہلی غزل جو ریڈیو پر مشہور ہوئی وہ کلاسک شاعر میر تقی میر کی مشہور زمانہ غزل تھی ۔ دیکھ تو دل کہ جان سے اٹھتا ہے۔

کافی عرصہ علالت میں گزارنے کے بعد آخر کار 13 جون 2012 کو کراچی کے ایک نجی اسپتال میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں