The news is by your side.

Advertisement

شہرہ آفاق قصیدہ بردہ شریف پڑھنے والے مہدی ظہیر

مہدی ظہیر کا نام کئی قارئین کے لیے نیا ہوسکتا ہے، لیکن قصیدہ بردہ شریف وہ شہرہ آفاق نعتیہ کلام ہے جو سبھی نے سنا اور پڑھا بھی ہو گا۔

یہ قصیدہ امام بوصیری نے لکھا تھا جس میں سرورِ کائنات ﷺ سے والہانہ عقیدت اور محبت کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ نعتیہ کلام اسلامی دنیا میں‌ بے‌ حد مقبول ہے، خاص طور پر سلسلہ تصوف میں‌ اس کلام کو بے حد عقیدت، عزّت اور توقیر حاصل ہے۔ دنیا کے معروف نعت خواں اس کلام کو پڑھنا باعثِ اعزاز سمجھتے ہیں اور اسے دینی مجالس و روحانی محافل میں نہایت ذوق و شوق سے سنا جاتا ہے۔

پاکستان میں‌ بھی ہر مشہور نعت خواں‌ نے یہ قصیدہ پڑھا ہے، لیکن مہدی ظہیر وہ نام ہے جس کے پُرسوز لحن نے اس قصیدے کا لُطف دوبالا کردیا اور خاص بات یہ ہے کہ مہدی ظہیر کو عربی زبان پر عبور حاصل تھا۔ انھوں نے قصیدہ بردہ شریف کے اشعار پڑھتے ہوئے کلام کے جوہرِ عقیدت، وفورِ شوق اور کیفیات کا گویا حق ادا کردیا۔

اب آپ مہدی ظہیر کا مختصر تعارف پڑھ لیں۔ مہدی ظہیر 1927 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام افتخار مہدی تھا۔

وہ پاکستان کے ممتاز موسیقار، گلوکار، شاعر اور براڈ کاسٹر تھے۔ انھیں اردو کے علاوہ عربی زبان پر عبور حاصل تھا اور ان کی آواز میں یہ قصیدہ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں سنا گیا۔

1974 میں جب لاہور میں دوسری اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی تو اس کا ترانہ بھی بہت مقبول ہوا جس کے بول تھے، ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں، ہم مصطفوی، مصطفوی، مصطفوی ہیں۔۔۔۔

یہ ترانہ بھی مہدی ظہیر نے گایا تھا۔ ان کی آواز میں ملک کے طول و عرض میں گونجنے والے اس ترانے کی بازگشت برادر اسلامی ممالک میں بھی سنائی دی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں