بدھ, جولائی 22, 2026
اشتہار

محشر بدایونی: اردو کے معروف شاعر کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیے میں جان ہو گی وہ دِیا رہ جائے گا

محشر بدایونی کا یہ شعر اکثر تحریر و تقریر میں یا کبھی مباحثے کے دوران ہم اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کے لیے ضرور پڑھتے ہیں۔ اردو میں زبان زدِ عام کا درجہ رکھنے والے اس شعر کے خالق کی آج برسی منائی جارہی ہے۔ محشر بدایونی 9 نومبر 1994ء کو وفات پاگئے تھے۔ آج ان کا تذکرہ شاذ ہی ہوتا ہے مگر ادب کی دنیا میں وہ اپنے زمانہ کی ایک اہم اور قدآور شخصیت رہے ہیں۔

بدایوں کو ہندوستان کا مشہور تاریخی شہر ہی نہیں کہا جاتا بلکہ بدایوں میں ان شخصیات نے آنکھ کھولی جنھوں نے علمی و ادبی شعبہ جات میں بڑا نام و مرتبہ پایا۔ اسی شہر میں محشر بھی 4 مئی 1922ء کو پیدا ہوئے۔ محشر بدایونی کا اصل نام فاروق احمد تھا۔ شعر و سخن کی دنیا میں انھوں نے محشرؔ کا تخلّص اپنایا اور بدایوں کی نسبت سے محشر بدایونی مشہور ہوئے۔ابتدائی تعلیم بدایوں سے مکمل کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے کراچی آگئے۔ علم و ادب سے ان کی وابستگی اور شعری سفر کا آغاز پہلے ہی ہوچکا تھا۔ کراچی میں اپنے ادبی ذوق و شوق کو جاری رکھا اور ملازمت ریڈیو پاکستان میں اختیار کرلی۔ اس زمانے میں ریڈیو پاکستان کا جریدہ آہنگ شایع ہوا کرتا تھا۔ محشر بدایونی نے اس جریدے کے معاون مدیر کی حیثیت سے کام کیا اور بعد میں اس کے مدیر بنے۔ وہ کراچی کی ادبی نشستوں اور مشاعروں میں شرکت کرتے رہے اور بطور شاعر پہچانے گئے۔ محشر صاحب بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ ان کی کتابوں میں شہرِ نوا، غزل دریا، گردش کوزہ، فصلِ فردا، حرفِ ثنا اور شاعر نامہ، سائنس نامہ شامل ہیں۔

محشر بدایونی کا یہ شعر بھی بہت مشہور ہے

کچھ ایسے بھی ہیں تہی دست و بے نوا جن سے
ملائیں ہاتھ تو خوشبو نہ ہاتھ کی جائے

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں