The news is by your side.

Advertisement

مہوش حیات اگر اداکارہ نہ ہوتیں تو کیا ہوتیں؟

اداکارہ مہوش حیات اور ان کے اہلخانہ نے اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں شرکت کی اور میزبان ندا یاسر کی جانب سے پوچھے جانے والے مختلف سوالات کے جوابات دئیے۔

مہوش حیات کا کہنا تھا کہ اگر وہ اداکارہ نہیں ہوتیں تو کسی کری ایٹو فیلڈ میں ہوتیں، پینٹنگ اسکیچ بنا رہی ہوتی یا پھر کانٹینٹ رائٹر، گلوکاری کے شعبے سے وابستہ ہوتیں۔

ندا یاسر نے مہوش حیات سے سوال کیا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میرا ہر کام میری میڈ کرے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ مجھے اپنا کام خود کرنا اچھا لگتا ہے، بہت ساری چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ امی کہتی ہیں کہ تم کیوں کررہی ہو لیکن مجھے لگتا ہے کہ بتانے اور کروانے سے بہتر ہے کہ میں خود کام کرلوں۔

اداکارہ کے اس جواب کی تائید ان کے بہن بھائیوں اور والدہ نے بھی ’سچ‘ کا پلے کارڈ اٹھا کر کی۔

ندا نے مہوش حیات سے ایک اور سوال کیا کہ ’میرا دل چاہتا ہے کہ میرے بہن بھائی میری آنکھ کا اشارہ سمجھ جائیں اور کچھ کہنا نہ پڑے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے اداکارہ نے ہاں میں جواب دیا۔

ایک سوال کے جواب میں مہوش حیات نے کہا کہ کھانے کے لیے مجھے چین بھی جانا پڑے تو میں چلی جاؤں گی، میزبان نے اداکارہ کی والدہ سے پوچھا کہ اگر آپ نے کوئی ان کی پسندیدہ چیز بنائی ہو تو وہ شوٹنگ چھوڑ کر آجائیں گی جس کا جواب دیتے ہوئے مہوش کی والدہ نے بتایا کہ ’نہیں یہ کہیں گی کہ رکھ دو میں شوٹنگ سے واپس آکر کھا لوں گی۔

مہوش حیات نے بتایا کہ جب وہ سو رہی ہوتی ہیں تو انہیں اٹھانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے، اداکارہ کے بہن بھائیوں نے بتایا کہ جب اٹھانے جاؤ تو کہتی ہیں کہ پانچ منٹ، پھر وہ پانچ منٹ آدھے گھنٹے پر جاکر ختم ہوتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں