site
stats
عالمی خبریں

امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے اپنا مشہور لباس عطیہ کردیا

واشنگٹن : امریکی خاتون اول میلانیا نے ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد انوگریشن تقریب کا لباس عطیہ کردیا، نیلامی سے حاصل رقم چیریٹی میں دی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کی خوش لباسی کے چرچے پورے امریکہ میں ہیں ، میلانیا ٹرمپ نے اپنے شوہر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد افتتاحی تقریب پہنا گیا لباس اب تاریخ کا حصہ بن گیا۔

میلانیا نے اپنا گاؤن امریکی تاریخ پر مبنی سمتھ سونین نیشنل میوزیم کو عطیہ کردیا،جسے امریکی پرچم کے ساتھ میوزیم میں سجا دیا گیا ہے۔

امریکی خواتین اول کے کریم کلر کے گاؤن سمیت سابق امریکی خاتون اول کے چھبیس گاؤنز کی نمائش کا انعقاد کیا جائے گا، نیلامی سے حاصل رقم چیریٹی میں دی جائے گی، یہ گاؤن فرانسیسی نژاد امریکی ڈیزائنر ہروے پیئر نے تیار کیا تھا۔

اس موقع پر میلانیا نے نہ صرف امریکی تاریخ کو ایک جگہ سمیٹ کر رکھنے پر میوزیم کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا بلکہ اپنے شاندار گاؤن کے ڈیزائنر پر بھی بات کی۔

خیال رہے کہ میلانیا ٹرمپ نے اپنے شوہر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد افتتاحی تقریب میں اس لباس میں ڈانس کیا تھا جبکہ صدر ٹرمپ نے نے بھی اس لباس پر ڈیزائنر کی تعریف کی تھی۔

اس موقع پر میلانیا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں نے اپنا لباس امریکی تاریخ پر مبنی سمتھ سونین نیشنل میوزیم کو عطیہ کیا ، یہ روایت افتتاحی تقریبات یاد دلانے میں مدد کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ جیسا کہ سب زیادہ جانتے ہیں، صدر بننے سے پہلے میرے شوہر کبھی سیاست میں نہیں رہے اور آپ تصور کر سکتے ہیں کہ الیکشن جیتنے کے بعد ہم سب کس حد تک مصروف ہوگئے ہوں گے، افتتاحی تقریب میں مجھے کیا پہننا چاہیے یہ سوچ میرے ذہن میں سب سے آخر میں آئی، اور ڈیزائنر کو اس گاؤن کو تیار کرنے کے لیے صرف دو ہفتے ملے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برادری کی تقریب میں خاتون اول کے اسٹائل کے چرچے رہے، آئس بلو لباس میچنگ گلوز،میچنگ شوز،سلیقے سے باندھے بال،ہمیشہ کی طرح اس خاص تقریب میں بھی میلانیا کا فیشن اسٹائل لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔


 اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top