The news is by your side.

Advertisement

بچوں سے زیادتی اور لائیو ویڈیو چلانے والے عالمی گینگ کا سرغنہ گرفتار

راولپنڈی : بچوں سے زیادتی اور لائیو ویڈیو چلانے والے عالمی گینگ کے سرغنہ کو گرفتار کرلیا گیا ، ملزم اسی جرم میں بھی برطانیہ سزا کاٹ چکا ہے،ملزم نے پاکستان میں 30 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں بچوں سے زیادتی اور لائیو ویڈیو چلانے والے عالمی گینگ کے سرغنہ کو گرفتار کرلیا گیا ، سی پی او نے بتایا ملزم بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے پر برطانیہ میں سزا کاٹ چکا ہے ، سہیل ایاز عرف علی کو برطانوی حکومت نے اسی جرم میں بے دخل کیا تھا۔

سی پی او کا کہنا تھا کہ ملزم اٹلی میں بھی بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں ٹرائل بھگت چکا ہے، اٹلی سے بھی ملزم کو بے دخل کیا گیا، تھانہ روات کی حدود میں ملزم نے محنت کش بچے کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور بچے سے زیادتی کی ویڈیو بھی بنائی۔

فیصل رانا نے بتایا کہ ملزم نے پاکستان میں 30 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کیا، ملزم برطانیہ میں بچوں کے تحفظ کے ادارے میں ملازمت کرتا تھا، متاثرہ افراد وفاقی ادارے سے رجوع کرسکتےہیں، سماجی دباؤ پر متاثرین مدعی نہ بنے تو پولیس مدعی بنے گی۔

مزید پڑھیں : پنجاب میں 7 ماہ کے دوران 156 بچوں سے زیادتی کے واقعات

یاد رہے رواں سال ستمبر میں ضلع قصور کی تحصیل پتوکی میں چونیاں بائی پاس کے قریب سے 3 لاپتہ بچوں کی مسخ لاشیں اور انسانی اعضا برآمد ہوئے تھے ، پولیس کے مطابق ایک بچے کی لاش مکمل حالت میں، جبکہ 2 بچوں کے سر اور ہڈیاں برآمد ہوئیں، قتل ہونے والا 8 سال کا فیضان پیر کو لاپتہ ہوا تھا، سلیمان دس اگست اور علی حسنین ایک ماہ سے لاپتہ تھے۔

خیال رہے صوبہ پنجاب میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، 7 ماہ کے دوران 156 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، سزا صرف چند ملزمان کو دی جاسکی۔

واضح رہے رواں سال جنوری میں وفاقی محتسب نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ صرف قصور میں دس برس میں دو سو بہترکیسز ہوئے، لیکن چند ملزمان کو سزا ہوئی، زیادتی کرنے والوں میں بااثر سیاستدان، دولت مند اور پڑھے لکھے افراد شامل ہیں۔

وفاقی محتسب کا کہنا تھا کہ عام طور پر بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے، 2018 میں بچوں سے زیادتی کے 250 سے زائد کیس درج ہوئے جبکہ 2017 میں زیادتی کے 4 ہزار 139 واقعات رپورٹ ہوئے، سب سے زیادہ پنجاب میں 1 ہزار 89 کیس رپورٹ ہوئے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں