بھارتی ظلم و بربریت پرمقبوضہ کشمیر کے حکومتی رکنِ پارلیمنٹ مستعفیٰ -
The news is by your side.

Advertisement

بھارتی ظلم و بربریت پرمقبوضہ کشمیر کے حکومتی رکنِ پارلیمنٹ مستعفیٰ

سری نگر : مقبوضہ کشمیر میں برسرِاقتدار جماعت کے ایک رکنِ اسمبلی طارق حمید نے حکومتی پالیسی اور کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی برسراقتدار جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی ‘طارق حمید کرا’ نے حکومتی پالیسی کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے اُنہوں نے اپنی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی ریاستی سطح پر بی جے پی کے ساتھ الحاق کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس کے انھوں نے ریاستی پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی بھی چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔

کشمیر کی صورت حال جانیے : مقبوضہ کشمیرمیں شہداء کی تعداد 95 ہو گئی

ذرائع کے مطابق جمعرات کو طارق حمید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کشمیر میں مسلمانوں کو عید کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی مزار اور جامع مسجد بند کر دیے گئے۔ کشمیری خون وادی کی دیواروں، گلیوں اور نالیوں میں بہہ رہا ہے۔‘

اسی سے متعلق : کشمیریوں نے عید الاضحیٰ خوف کے سائے میں منائی

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر 18 جولائی سے بھارتی ظلم و جبر عروج پر ہے اور مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق افراد کی تعداد 98 ہو گئی ہے۔ مختلف علاقوں میں بدستور کرفیو نافذ ہے۔ حریت کانفرنس کی اپیل پر مقبوضہ وادی میں احتجاجی مظاہروں اور ہڑتال کا سلسلہ بھی جاری ہے

یہ خبر پڑھیں : بھارت نےمقبوضہ کشمیرتک رسائی دینے کی انکار کردیا،انسانی حقوق سیل اقوام متحدہ

اس دوران کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف چھروں والے کارتوس بھی استعمال کیے ہیں جس کی وجہ سے سات ہزار سے زائد لوگوں کے زخمی اور نابینا ہو جانے کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت کشمیر میں انسانی حقوق پامال کر رہا ہے، دفتر خارجہ

اس سے قبل اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کشمیر کی خواہش ظاہر کی تھی اس کے ساتھ وہ آزاد کشمیر کے دورے کے بھی متمنی تھے جسے پاکستانی حکومت نے قبول کر لیا تھا تا ہم بھارتی حکومت نے یکسر انکار کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں