The news is by your side.

Advertisement

“سینیٹ الیکشن سے متعلق پارٹی موقف پر قائم ہیں”

کراچی: رکن سندھ اسمبلی جماعت اسلامی سید عبدالرشید کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن کے اس پورے نظام پر شفافیت کا سوال اٹھ رہا ہے اور عوام کا جمہوری عمل سے اعتماد ختم ہورہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ووٹ نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا تھا اس پر قائم ہیں، بڑی بڑی پیشکشوں کی اہمیت نہیں اصل فیصلہ پارٹی کا ہے۔

سید عبدالرشید نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی نے مجھے خریدنے کی کوشش نہیں کی، ہوسکتا ہے پیپلز پارٹی نے کسی اور کو خریدنے کی کوشش کی ہوگی، براہ راست انتخابات ہو یا ایوان بالا کا، نوٹوں کی سیاست ہر جگہ ہے، آئین کی دفعہ 62،63 پر عمل کرکے ہی ہارس ٹریڈنگ کو روکا جاسکتا ہے۔

جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی نے کل ایوان میں ہونے والے واقعے کو افسوسناک اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ تشدد کا واقعہ پہلی مرتبہ نہیں مگر اس کا سدباب ضروری ہے،اسپیکر کو اس معاملے میں اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا، اسپیکر ایکشن لیں تو کوئی بھی اسمبلی کا وقار پامال نہیں کرسکتا۔

جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ آج ایک رکن سے موبائل فون برآمد ہونے کی وجہ سے پولنگ رکنے کی بھی اطلاع ملی، تمام اراکین کو الیکشن کمیشن کے ضابطوں پر عمل کرنا چاہیے، کرکٹ میچ کی طرح سینیٹ الیکشن پر بھی سٹہ اور بولیاں لگ رہی ہیں، الیکشن کے اس پورے نظام پر شفافیت کا سوال اٹھ رہا ہے۔

جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ نو بال، چوکے، چھکے کی طرح سٹہ لگانے کے لیے تمام ہوٹلوں میں بکیز اور سرمایہ دار بیٹھے ہیں، سینیٹ کے ٹکٹ بھی سرمایہ داروں کو دے کر پیسے لیے گئے ہیں، جہاں ایم پی اے ایز کی بولی دو سے 25 کروڑ روپے تک لگائی جارہی ہے، بہت سے معاملات سے واقف ہوں، اسی لیے کھل کر بول رہا ہوں۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں بھی جماعت اسلامی نے آج ایوان بالا کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا، جماعت اسلامی کے عبدالکبر چترالی اسمبلی میں موجود نہیں ہیں۔

قومی اسمبلی میں ریٹرننگ افسر نے اعلان کیا کہ 341 ارکان کے ایوان میں سے 340 ووٹ کاسٹ ہوچکے ہیں صرف ایک ووٹ باقی رہ گیا ہے، ہم 5بجے تک انتظار کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں