site
stats
اے آر وائی خصوصی

مرد کو سونا اور ریشم پہننا کیوں منع ہے؟

gold

اسلام میں مردوں کے لیے سونا استعمال کرنا حرام ہے، اسی طرح ریشم کے کپڑ ے بھی مردوں کے لیے ناجائز ہیں یہ بات متعدد احادیث میں بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے کو مردوں کے لیے ممنوع قرار دیا ہے۔

اے آر وائی کیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی اکمل قادری نے بتایا کہ دین اسلام میں مردوں کو یہ چیزیں پہننے کے لیے قطعاً منع کیا گیا ہے کیونکہ اس طرح کی چیزیں مرد کے اندر نسوانیت کو ابھارتی ہیں مردانیت کو نہیں، اس قسم کی چیزیں استعمال کرنے سے انسان نسوانیت پسند ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مردانگی مرد کے چہرے سے ٹپکنی چاہیے لیکن اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کسی پر تشدد کیا جائے۔

اس سے مراد یہ ہے کہ مرد کو مرد ہی نظر آنا چاہیئے عورت نہیں، بد قسمتی سے ہمارے آج کل کے نوجوان پونیاں باندھ کر اور کانوں میں ٹوپس پہننا اچھا محسوس کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو! ریشم اوردیباج نہ پہنو اور نہ سونے اورچاندی کے برتن میں پانی پیو اور نہ ہی سونے چاندی کی رکابی میں کھانا کھاؤ کیونکہ یہ سامان کفار کے واسطے دنیا میں ہے اورہمارے واسطے آخرت میں ہو گا۔

حضرت معاویہ بن سوید بن مقرن نے حدیث مبارکہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میں (معاویہ بن سوید) نے حضرت برا بن عازب رضی اﷲ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سات (7) باتوں سے منع فرمایا ہے۔

سونے کی انگوٹھی یا سونے کا چھلا، ریشم، استبرق، دیباج سرخ گدوں، قسی (ایک قسم کا ریشمی کپڑا) اور چاندی کے برتن۔

اورسات (7) باتوں کا ہمیں حکم دیا ہے۔ یعنی بیمار کی مزاج پرسی کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، چھینکنے والے کو جواب دینا، سلام کا جواب دینا، دعوت کو قبول کرنا، قسم کو پورا کرنا اور مظلوم کی مدد کرنا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top