The news is by your side.

Advertisement

خوف زدہ اور فکرمند رہنے سے کیا ہوتا ہے؟

اس مشینی دور نے ہمارے طرزِ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور ہر طرف افراتفری، انتشار نظر آتا ہے۔

ہم میں‌ سے ہر فرد طرح طرح کے مسائل اور مشکلات کا سامنا کررہا ہے جن میں گھریلو جھگڑے، عام مسائل کے علاوہ بے روزگاری یا کم تنخواہ کی وجہ سے اکثر لوگ ذہنی تناؤ کا شکار نظر آتے ہیں۔

تنگ دستی، غربت کے ساتھ جہاں ضروریات پوری نہیں ہو پاتیں، وہیں بعض گھرانے ایسے بھی ہیں جو صحت اور علاج معالجے کے حوالے سے شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہیں اور یہ سب ہماری ذہنی حالت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

پاکستان میں بھی ذہنی تناؤ اور شدید ڈپریشن کے شکار لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جس کی مختلف وجوہ ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 50 کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں اور پاکستان میں بھی ذہنی تناؤ کے حوالے سے رپورٹ ہونے والے کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

دماغی اور ذہنی صحت کے حوالے سے سرگرم اداروں کے محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 33 فی صد لوگ ذہنی پریشانی اور ڈپریشن میں مبتلا ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق ذہنی تناؤ سنگین مسئلہ ہے جس کا سامنا غریب ممالک ہی نہیں ترقی یافتہ اور ان ملکوں کو بھی ہے جہاں صحت اور علاج کی بہتر سہولیات
موجود ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ذہنی امراض سے متاثر ہونے والوں میں نوجوان بھی شامل ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

ذہنی تناؤ اور مختلف دماغی امراض کے باعث دنیا بھر میں خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والوں میں نوجوان بھی شامل ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق ہر طرح کا دباؤ نقصان دہ نہیں ہوتا اور بعض اوقات وقتی طور پر کوئی بھی ذہنی تناؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

اگر مسائل ختم ہوجائیں یا کسی طرح کوئی فرد اس ذہنی تناؤ پر قابو پا سکے تو نارمل ہوسکتا ہے۔

ذہنی تناؤ کے نتیجے میں اعصابی نظام، ہارمونز، نظامِ تنفس پر اثر پڑتا ہے۔ ہر وقت کسی بات کو سوچتے رہنا، فکرمند رہنا، غصہ آنا، مستقل چڑچڑا پن شدید ذہنی تناؤ کی علامات ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں