پیر, فروری 16, 2026
اشتہار

ذہنی تناؤ آپ کے قابو میں ہے، بس طریقہ بدلیں، مگر کیسے؟

اشتہار

حیرت انگیز

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ذہنی تناؤ سے نجات انسان کے اپنے اختیار میں ہے، بشرطیکہ طرزِ زندگی میں مثبت اور بروقت تبدیلیاں لائی جائیں۔

آج کے دور میں ذہنی تناؤ روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے، تعلیم، ملازمت، کیریئر، مالی مسائل، خاندانی اختلافات اور سماجی دباؤ، یہ سب عوامل انسان کو ذہنی طور پر تھکا دیتے ہیں اور اس کے جسمانی و ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک ذہنی دباؤ میں رہنا صرف ذہنی نہیں بلکہ جسمانی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل تناؤ کے شکار افراد میں فالج کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق بدلتا ہوا طرزِ زندگی، نیند کی کمی اور غیر متوازن معمولات تناؤ کو مزید شدید بنا دیتے ہیں۔

ذہنی تناؤ کے نقصانات

دائمی تناؤ انسانی دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ یاد داشت کمزور ہو جاتی ہے، تخلیقی صلاحیتیں گھٹنے لگتی ہیں اور فیصلہ سازی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جبکہ بے چینی، خوف اور اضطراب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ذہنی تناؤ کے دوران دماغ میں ضروری نیورو ٹرانسمیٹرز کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ سیرٹونن کی کمی ڈپریشن کو جنم دیتی ہے جبکہ ڈوپامائن کی کمی مسلسل تھکاوٹ، خوشی میں کمی اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔

تناؤ کے باعث خون کی گردش میں بھی تبدیلی آتی ہے، خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس سے دماغ کو آکسیجن اور گلوکوز کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً مائیگرین، ذہنی دھند اور دماغی صلاحیت میں کمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ہارمونز اور جسم پر اثرات

نیورولوجسٹ ڈاکٹر صباحیہ چودھری کے مطابق تناؤ کے دوران جسم میں کورٹیسول، ایڈرینالین اور ناراڈرینالین جیسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں۔ اگرچہ معمولی تناؤ جسم کے لیے ضروری ہے، لیکن حد سے زیادہ تناؤ دل کی دھڑکن تیز کرنے، بلڈ پریشر بڑھانے اور دماغ، دل اور دیگر اعضاء پر غیر معمولی دباؤ ڈالنے کا باعث بنتا ہے۔

دیگر اعضاء بھی متاثر

ذہنی دباؤ صرف دماغ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے جسم کو متاثر کرتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ میٹابولزم کو متاثر کرتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ذہنی تناؤ کے تباہ کن اثرات میں شامل ہیں:

کچھ افراد کا وزن تیزی سے بڑھ جانا جبکہ کچھ کا غیر معمولی طور پر کم ہو جانا ۔ خواتین میں ماہواری کے مسائل ۔ مدافعتی نظام کی کمزوری ۔ ڈپریشن اور اضطرابی امراض کا بڑھتا ہوا خطرہ اس کے علاوہ
بلند فشارِ خون کے باعث خون کی شریانیں پھٹنے کا خدشہ بھی ہوتا ہے، جس سے ہیمرجک اسٹروک یا بعض اوقات خاموش اسٹروک ہو سکتا ہے۔

حل کیا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے تناؤ کی وجوہات کو پہچاننا ضروری ہے، یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری زندگی میں کون سے عوامل ہمیں ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رہے ہیں۔

تیز چلنا، ورزش، مراقبہ، موسیقی سننا، مطالعہ، رقص اور فطرت کے قریب وقت گزارنا ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کی تحقیق کے مطابق قدرتی ماحول میں روزانہ 20 سے 30 منٹ کی چہل قدمی کورٹیسول کی سطح کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔

منفی خیالات کو ترک کر کے مثبت سوچ اپنانا، روزانہ ڈائری لکھنا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا بھی تناؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق صحت مند اور متوازن غذا، جس میں پروٹین زیادہ اور چینی، نمک و کولیسٹرول کم ہو، ذہنی صحت کے لیے مفید ہے۔

ہفتے میں کم از کم پانچ دن روزانہ 30 منٹ ورزش کرنے سے تناؤ میں واضح کمی آتی ہے۔ بار بار شدید تناؤ کا شکار افراد کے لیے علمی سلوک تھراپی (سی بی ٹی ) بھی ایک مؤثر علاج ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ذہنی تناؤ پر قابو پانا انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے—بس ضرورت ہے شعور، نظم و ضبط اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی کی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں