ڈرامہ سیریل ’میری گڑیا‘ ہمارے لیے کیا پیغام چھوڑگیا -
The news is by your side.

Advertisement

ڈرامہ سیریل ’میری گڑیا‘ ہمارے لیے کیا پیغام چھوڑگیا

اے آر وائی ڈیجیٹل سے نشر ہونے والاڈرامہ سیریل ’میری گڑیا‘ ٹیلی ویژن کی تاریخ میں ایک عہد رقم کر کے اختتام پذیر ہوا ۔ کہنے کو تو ایک ڈرامہ ختم ہوا لیکن ہمارے لیے ایک عظیم مقصد کی جانب نشاندہی کرتی یہ کہانی، روشن چراغ کی مانند ہے۔

شروع میں جب یہ ڈرامہ آن ائیر ہوا تو مجھے کوئی خاص دلچسپ نہیں لگا، ظاہر ہےکوئی لو ٹرائنگل نہیں تھا مگر جب 8 سالہ بچی زیادتی کا شکار ہو کر کوڑے کے ڈھیر سے لاش کی صورت میں ملی تو ماں کا دل کانپا، سفینہ مدد کو آئی,اور ایک لمبی جدوجہد شروع ہوئی جس نے ہر چھوٹے بڑے کو سکرین کے آگے جکڑے رکھا۔

یوں لگتا تھاکہ جیسے کانوں میں عابدہ آکر کہتی ہوکہ مجھے انصاف دلاؤ۔ ہر ہفتے دو انصاف مانگنے والوں کے لیے مشکلات کا ایک انبار لگا ہوتا تھا، کبھی گھر کو آگ لگی، کبھی احتجاج کے دوران گولی اور جانتے ہیں مجرم کون تھا ؟۔ مجرم تھا سفینہ کا شوہردبیر! جی ہاں، اسی لڑکی کا شوہر جو عابدہ کے لیے انصاف کی جنگ لڑ رہی تھی۔ جس نےکبھی اپنی بیوی کو غصے میں چھوا تک نہ تھا، ایسا بھولا انسان کہ جس سے ذرا سا کوئی اونچی آواز میں بات کر لیتا تو کانپنے لگتا،محلے کا سب سے نیک اور دیندار لڑکا،ہر ایک کی نظر میں شریف لیکن من اندر سے کالا تھا ۔معصوم بچی عابدہ اور اس کی گڑیا اس درندے کا شکار تھے اور یہی حقیقت بھی ہے۔ ایسے لوگ پہلے ہمارا اعتماد بٹورتے ہیں اور پھر وار کرتے ہیں اور اکثر یہ ہمارے اپنے ہی ہوتے ہیں۔

ڈرامہ تکنیکی لحاظ سے کیسا تھا اس پر تو گفتگو کرنا کسی ماہر کا کام ہے، میرے لیے جو چیزیں اہم تھیں ان میں مضبوط ڈائیلاگز اور پھر بڑے اداکاراؤں کی منجھی ہوئی اداکاری اسے ایک شاہکار بنا گئی۔ ڈرامے کے مصنف، ڈائریکٹر اور تمام ٹیم داد کی مستحق ہے جنہوں نے اتنے کٹھن موضوع کو انتہائی کمال مہارت سے برتا۔

ڈرامے کی کہانی کیا تھی ۔۔۔ یہ کہ ایک معصوم بچی کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملی ، اس ظلم پر آواز اٹھائی دو عورتوں نے اور محلے کے عزت دار، ان دو عورتوں کی آواز سن کر گھبرا گئے اور ان کا منہ بند کرانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ جانے انجانے میں مجرم کو بچاتے رہے یا شاید جان بوجھ کر،آخر ہم پاکستانیوں کی غیرت بھی توایک بت ہی ہے نا جسے صبح شام پوجا جاتا ہے۔

مگر جیت حق کی ہوتی ہے مجرم پکڑا گیا اور ڈی این اے رپورٹ نے بھی ثابت کیا کہ دبیر ہی درندہ ہے جس نے خود پولیس کے ڈنڈے کھا کر اقرار کیا کہ وہ 12 بچیوں کا شکار کرچکا ہے۔مگر اندھے قانون کو مزید اندھا ثابت کرنے کے لیے اور شیخ صاحب اپنی پگڑی بچانے کی خاطروکیل لے آتے ہیں، وہ بھی مہنگا ترین اور وکیل بھی اپنا ضمیر بیچ کر سچ جانتے ہوئے سچ کو غلط اور جھوٹ کو صحیح ثابت کرنے میں جٹ جاتا ہے۔

اگر آپ نے یہ ڈرامہ نہیں دیکھا تو آپ اسے آن لائن دیکھ سکتے ہیں ۔ اس ڈرامہ کا اختتام شروعات ہے ایک لمبے سفر کی اور اگر کوئی یہ پڑھ کر یا دیکھ کر سوچے کہ یہ تو بس ڈرامہ تھا ختم ہو گیا ۔ نہیں حضرات! میڈیا نے عوام کے ذہنوں کو اس درندگی پر مبنی واقعے کے دونوں پہلے دکھا دیے ، اب آپ کا کام ہے کہ اور کچھ نہیں تو اگر آپ کے آس پاس کوئی حق کے لیے اٹھے تو اس کا راستہ صاف کیجیے گا۔

خدانخواستہ! اگر آپ کسی طرح متاثرین میں سے ہیں تو بسم اللہ کیجیے، انصاف کا علم اٹھائیے، اس یقین کے ساتھ کے حق کی جیت برحق ہے اور ہو کہ رہے گی ،لیکن اسکے ساتھ ہمیں ایک اور کام بھی کرنا ہے اور وہ آگہی، اور شعور جو ہم نے ہر چھوٹے بڑے کو دینا ہے تاکہ نوبت یہاں تک پہنچے ہی نہیں۔ثانیہ سعید، سونیا حسین، ساجد حسن، اور محسن کی اداکاری اپنے جوبن پر تھی اور خوب تھی۔ ہمارے معاشرے میں ایسی کہانیوں پر بات کرنا اب امر واجب بن چکا ہے لیکن اگر ہر دوسری کہانی اسی ٹاپک پہ ہوگی جیسا کہ ہماری ڈرامہ انڈسٹری میں رواج پا چکا ہے کہ اگر کوئی ڈرامہ ہٹ ہو گیا تو پھر ہر دوسرا ڈرامہ اسی موضوع پر بنے گا تو یہ موضوع اپنی افادیت کھو دے گا۔


تحریر: بنت الہدیٰ

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں