The news is by your side.

Advertisement

جرمنی شام میں کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا، انجیلا مرکل

برلن: جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ برلن حکومت شام میں کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گی، شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ناقابل قبول ہے۔

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی سے قبل مغربی اتحادی ممالک کو جرمنی سے مشاورت کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل اتحادی ممالک کا متحد اور ہم خیال ہونا ضروری ہے تاہم شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کسی صورت قبول نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: برطانوی پارلیمینٹ نے بشارالاسد کے خلاف کارروائی پررضامندی ظاہرکردی

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی وفاقی کابینہ نے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ مستقبل میں کیمیائی حملہ روکنے کے لیے شامی صدر بشار الاسد کے خلاف ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روس تیار رہے شام پر جدید میزائل سے حملہ کرنے آرہے ہیں تاہم شام پر حملہ بہت جلد بھی کرسکتے ہیں اور اس میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ روس کا امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شام پر فضائی حملے دو ملکوں کے درمیان جنگ کا سبب بن سکتے ہیں، امریکا عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے، موجودہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں