جد: سعودی عرب میں سعودی کلب الاتحاد کے صدر انمار الحائلی نے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ اسٹار فٹبالر لیونل میسی کو بلینک چیک کی پیشکش کی ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے ارجنٹائن فٹبالر کو اس سے قبل 1.4 ارب ڈالر کی پیشکش بھی کی تھی، جسے لیونل میسی نے مسترد کردیا تھا۔
میسی نے حال ہی میں انٹر میامی کے ساتھ 3 سالہ نیا معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت وہ 2028 تک پنک جرسی میں کھیلتے رہیں گے، تاہم اس کے باوجود سعودی کلبز کی دلچسپی کم نہیں ہوئی۔
الاتحاد کے صدر انمار الحائلی کا انکشاف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ارجنٹائن کے اسٹار فٹبالر کے لیے ایک غیر معمولی معاہدہ تیار کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر میسی ہمارے ساتھ معاہدہ کرنے پر رضامند ہو جائیں تو میں انہیں ایسا کنٹریکٹ دوں گا جس میں وہ اپنی مرضی کے مطابق رقم حاصل کر سکیں گے، حتیٰ کہ معاہدے کی مدت عمر بھر کے لیے بھی ہو سکتی ہے۔
انمار الحائلی کا کہنا تھا کہ ماضی میں، میں نے انہیں 1.4 ارب یورو کی پیشکش کی تھی، تاہم انہوں نے خاندانی وجوہات کی بنا پر اسے مسترد کر دیا تھا۔
محمد صالح نے رونالڈو اور میسی کو پیچھے چھوڑ دیا
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مالی طور پر میسی کے ساتھ معاہدے کی کوئی حد نہیں ہے، کیونکہ دنیا کے بہترین کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنا ہر طرح سے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ میسی اس وقت انٹر میامی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور رواں سال کے وسط میں اپنی ٹیم کے نئے اسٹیڈیم کی افتتاحی تقریب کا بھی حصہ بنیں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


