site
stats
کھیل

فیفا پلیئر آف دی ایئر کے لیے میسی، رونالڈو اور نیمار میں مقابلہ

زیوریخ : فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے پلئیر آف دی ائیر کے لیے میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور نیمار کو شارٹ لسٹ کرلیا ہے خوش قسمت کھلاڑی کا اعلان 30 اکتوبر کو کیا جائے گا.

تفصیلات کے مطابق فٹ بال کے بادشاہ کا تاج کس کے سر سجے گا اس کے لیے فیفا کے ذمہ داران سر جوڑ کر بیٹھیں ہیں جس کے لیے نہایت ٹف مقابلہ ہے تاہم فیفا نے تین اہم کھلاڑیوں کو شارٹ لسٹ کرلیا ہے, فیفا مینز پلئیر آف دی ائیر کا اعلان 30 اکتوبرکو ہو گا.

ذرائع کے مطابق فیفا پلئیر آف دی ائیر کے لیے روایتی حریف لائنل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو ایک بار پھر ایک دوسرے کے مقابل ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ دونوں میں سے کون فیفا کو اطمینان کرنے میں کامیاب ہوپاتا ہے.

دوسری جانب اس اہم مقابلے میں برازیل کے نیمار بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اپنے روایتی حریفوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت محنت کی تھی اور پورا سال بہترین کھیل پیش کیا.

چنانچہ کہا جا رہا ہے کہ سابقہ برسوں کی نسبت امسال جیوری کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا ہے کیوں کہ جہاں ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے سپرا سٹار میسی نے گزشتہ سیزن چون گول بنائے تھے اور بارسلونا کواسپینش سپر کپ میں فتح دلائی تو پرتگالی اسٹرائیکرکرسٹیانو رونالڈو نے ریال میڈرڈ کو لالیگا اور چار سال میں تیسری بار چیمپئنز لیگ کا چیمپئن بنایا.

وہیں برازیل سے تعلق رکھنے والے نیمار اس وقت دنیا کے مہنگے ترین کھلاڑی ہیں اور رواں سیزن میں ان کی کارکردگی غیر معمولی رہی ہے اور دنیا کے مقبول ترین کھلاڑی بنتے جا رہے ہیں جس کے باعث وہ میسی اور رونالڈو کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں جس سے فیفا کو پلیئر آف دی ایئر کے انتخاب میں مشکلات کا سامنا ہے.

سال 1991 سے پلیئر آف دا ایئر کے لیے زیڈان اب تک تین مرتبہ پلیئر آف دی ایئر قرار پائے جب کہ ایک مرتبہ دوسری اور دو مرتبہ تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے جب رونالڈو بھی تین بار پہلی اور ایک ایک بار دوسرے اور تیسرے نمبر پر فائز رہے اسی طرح میسی ایک بار پہلے اور دو بار دوسری پوزیشن حاصل کرپائے ہیں۔

اسی طرح اب تک برازیل کے پانچ کھلاڑی اٹلی اور پرتگال کے دو دو کھلاڑی  جب کہ فرانس، جرمنی، نیدر لینڈ، لیبیریا اور ارجینٹینا ایک ایک کھلاڑی پلیئر آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top