سنگاپور : سوشل میڈیا کمپنی میٹا کے ملازمین صبح 4 بجے برطرفی کے نوٹس موصول ہوگئے جبکہ مزید 6 ہزار خالی آسامیوں کو ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے دنیا بھر میں تقریباً 8 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا، جو کمپنی کی مجموعی افرادی قوت کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ برطرفیوں کا آغاز سنگاپور سے کیا گیا، جہاں بدھ کی صبح 4 بجے ملازمین کو ای میل کے ذریعے نوکری ختم ہونے سے متعلق اطلاع دی گئی، بعد ازاں برطانیہ، امریکا اور دیگر ممالک میں بھی ملازمین کو نوٹس موصول ہونا شروع ہوگئے۔
میٹا نے بیک وقت 7 ہزار ملازمین کو نئے AI فوکسڈ شعبوں میں منتقل کرنے اور مزید 6 ہزار خالی آسامیوں کو ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ کمپنی رواں سال مزید برطرفیوں کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔
کمپنی کی چیف پیپل آفیسر جینیل گیل نے ملازمین کو ہدایت دی کہ اس عمل کے دوران دفاتر سے کام کے بجائے گھروں سے کام کیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق کمپنی صرف ملازمین کو فارغ نہیں کر رہی بلکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نئے ڈھانچے کی طرف بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے “اپلائیڈ اے آئی اینڈ انجینئرنگ” نامی نئی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جس کی قیادت نائب صدر انجینئرنگ مہر صبا کر رہے ہیں۔
اس ٹیم میں تقریباً 2 ہزار ملازمین شامل ہیں، اور اس میں شامل افراد کو برطرفی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ میٹا مالی بحران کا شکار نہیں، بلکہ کمپنی نے 2025 میں 201 ارب ڈالر آمدن حاصل کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے تاہم کمپنی نے 2026 میں AI انفرااسٹرکچر پر 115 سے 145 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
کمپنی کے سربراہ پہلے ہی AI ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال اور کام کے روایتی طریقۂ کار میں تبدیلی کے اشارے دے چکے ہیں کہ کمپنی AI کی مدد سے کم افرادی قوت کے ساتھ زیادہ کام کرنے کے ماڈل پر منتقل ہورہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملازمین میں شدید بے چینی اور تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ بعض ملازمین نے AI ڈیٹا ٹریکنگ پروگرام کے خلاف اندرونی سطح پر احتجاج بھی کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ٹیکنالوجی کی دنیا میں AI کے باعث آنے والی بڑی تبدیلیوں کی واضح مثال ہے، جبکہ سنگاپور جیسے ٹیکنالوجی ہب بھی اس نئی لہر سے محفوظ نہیں رہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


